رسائی کے لنکس

logo-print

اگر ری پبلکن پارٹی ہاری تو مجھے الزام نہ دیا جائے، ٹرمپ


صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں سے سرگرمی سے ری پبلکن ارکان کے حلقوں میں انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں جس کے دوران انہوں نے کئی انتخابی جلسوں اور جلوسوں سے خطاب کیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کو شکست ہوئی تو اس کا الزام انہیں نہ دیا جائے۔

منگل کو خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انتخابی مہم چلا کر ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کی مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ماضی میں کبھی کوئی اور انتخابی مہم پر اس طرح اثر انداز ہوا ہے جس طرح وہ ہورہے ہیں۔

صدر نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان کے وفادار حامی ری پبلکنز کو ضرور ووٹ دیں گے۔ لیکن انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ انتخاب ان کی صدارت سے متعلق ایک ریفرنڈم کے طور پر لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ ان کی جماعت انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھائے گی کیوں کہ ان کے بقول انہیں حالات 2016ء جیسے ہی لگ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں سے سرگرمی سے ری پبلکن ارکان کے حلقوں میں انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں جس کے دوران انہوں نے کئی انتخابی جلسوں اور جلوسوں سے خطاب کیا ہے۔

صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں سے ری پبلکنز کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں جس کے دوران انہوں نے کئی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔
صدر ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں سے ری پبلکنز کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں جس کے دوران انہوں نے کئی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔

ڈیموکریٹس پرامید ہیں کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں مزید کئی نشستیں جیت جائیں گے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول ری پبلکنز سے چھین لیں گے۔

ری پبلکنز بھی پرامید ہیں کہ وہ نومبر کے انتخابات میں دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔

چھ نومبر کو ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 جب کہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوگا۔

اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز کو 235 نشتوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جب کہ ڈیموکریٹس ارکان کی تعداد 193 ہے۔ ایوان کی سات نشستیں اس وقت خالی ہیں۔

ری پبلکنز کو اصل خطرہ سینیٹ میں لاحق ہے جہاں اسے صرف ایک رکن کی برتری حاصل ہے۔ سو رکنی سینیٹ میں 51 ری پبلکنز اور 49 ڈیموکریٹس ہیں۔

'اے پی' کے مطابق منگل کو انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی معاملات پر کھل کر بات کی اور اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔

وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 20 روز رہ گئے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 20 روز رہ گئے ہیں۔

لاپتا سعودی صحافی جمال خشوگی کے معاملے پر سعودی عرب پر کی جانے والی تنقید کے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ تنقید قبل از وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ درحقیقت خشوگی کے ساتھ ہوا کیا ۔ ان کے بقول انہیں یہ بات بالکل پسند نہیں کہ کسی کو اس وقت تک گناہ گار ہی سمجھا جائے جب تک وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کردے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی کے جانشین کا اعلان ایک دو ہفتے میں کردیں گے۔ ہیلی نے گزشتہ ہفتے اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ دوسری متوقع ملاقات کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگی۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ قوی امکان ہے کہ مجوزہ ملاقات امریکہ کی سرزمین پر نہیں ہوگی۔

صدر نے کہا کہ وہ دوسری مدتِ صدارت کے لیے انتخاب میں ضرور حصہ لیں گے کیوں کہ ان کے بقول وہ نہیں چاہتے کہ کوئی اور ان کی جگہ آ کر بیٹھ جائے اور وہ سب برباد کردے جو انہوں نے حاصل کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG