رسائی کے لنکس

logo-print

پٹسبرگ: سائناگوگ شوٹنگ میں کم از کم 11 افراد ہلاک


ایک شخص ''سارے یہودیوں کو مرنا چاہیئے'' کا نعرہ لگاتے ہوئے پٹسبرگ کے ایک سائناگوگ میں داخل ہوا جہاں ہفتے کے روز 'سبت' کی عبادت جاری تھی۔ اُس نے عبادت گزاروں پر بلاامتیاز گولیاں برسا کر متعدد افراد کو ہلاک کیا، جو امریکہ میں مہلک شوٹنگ کا تازہ ترین واقع ہے۔

شام گئے اہلکاروں نے ہلاک شدگان کی تعداد 11 بتائی ہے۔

پنسلوانیا کے مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ حملہ آور 'ٹری آف لائف' نام کے سائناگوگ میں داخل ہوا اور عبادت میں مصروف لوگوں پر گولیاں چلائیں۔

'فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن' نے تفتیش کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ 'پٹسبرگ پبلک سیفٹی' کے سربراہ، وینڈل ہسی رچ نے سائناگوگ کے باہر اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ''یہ نفرت پر مبنی'' شوٹنگ کا واقع ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ''یہ بدترین نوعیت کا جرم ہے، جو میں نے پہلی بار دیکھا ہے''۔ ہسی رچ نے بتایا کہ چھ افراد زخمی ہیں، جن میں چار پولیس اہل کار شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے مشتبہ شخص کی شناخت رابرٹ بوورز ہے، جس کی عمر 48 برس ہے اور وہ جنوبی پٹسبرگ کا باسی ہے۔ حکام کے مطابق، وہ حالت زخمی ہے اور اسے طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔

سماجی میڈیا بظاہر بوورز کی جانب سے شائع کردہ پوسٹوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز کلمات استعمال کرتا ہے۔

ایک پیغام کی تحریر میں لکھا ہے کہ ''میں انتظار نہیں کرسکتا جب کہ میرے لوگوں کو ذبح کیا جا رہا ہو۔۔میں اندر جا رہا ہوں''۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میری لینڈ میں 'جوائنٹ بیس انڈریوز' پر اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ انڈیانا پولس میں آج شام کی تقریر کے دوران حملے کے بارے میں مکمل بیان دیں گے۔ وہ 'فیوچر فارمرز آف امریکہ' سے خطاب کریں گے۔

'ایئر فورس ون' میں سوار ہونے سے قبل، صدر نے کہا کہ ''جب لوگ ایسا عمل کریں، تو اُنھیں سزا ملنی چاہیئے۔ ضروررت اِس بات کی ہے سزائے موت کو پھر سے رائج کیا جائے''۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ''ایک مسلح محافظ سائناگوگ کے اندر موجود ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ فوری طور پر حملہ آور کو روک دیتا۔ ایک سر پھرا اندر داخل ہوتا ہے جب کہ اُن کے پاس اپنی حفاظت کا بندوبست نہیں تھا''۔

جب اُن سے پوچھا گیا آیا اب امریکہ کی عبادت گاہوں میں مسلح محافظ تعینات کیے جائیں گے، ٹرمپ نے کہا ''ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو''؛ ایسی دنیا میں ''جہاں بہت سے مسائل ہیں''۔
پنسلوانیا کے گورنر ٹام ولف نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں شوٹنگ کو ''ایک شدید نوعیت کا المیہ'' قرار دیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے مقامی قائدین سے بات کی ہے، اور بحران سے نمٹنے کے لیے قانون کا نفاذ کرنے والے اور امدادی کام کرنے والوں کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
بقول اُن کے،''اس طرح کا عقل سے عاری عمل امریکی اقدار کی نفی ہے''۔
اسرائیلی وزیر اعظم، بینجامن نیتن یاہو، جنھوں نے پنسلوانیا کے ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی، کہا ہے کہ ''آج پٹسبرگ سائناگوگ پر قاتلانہ حملے کا سن کر مجھے دلی تکلیف پہنچی اور صدمہ ہوا''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG