رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف اسپتال سے ڈسچارج، رہائش گاہ پر 'آئی سی یو یونٹ' قائم


سابق وزیر اعظم نواز شریف۔ (فائل فوٹو)

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی رہائی کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ان کی رہائش گاہ جاتی عمرا منتقل کر دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ میں انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کا خصوصی یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول، نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی اسپتال کی بجائے ان کی رہائش گاہ پر طبی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ ڈاکٹرز نے کیا ہے۔

نواز شریف کو منگل کو ہی سروسز اسپتال سے منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں تھیں۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی رہائی تک سروسز اسپتال سے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے چند روز قبل چوہدری شوگر مل کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں دو ماہ کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت ملی ہے۔

نواز شریف کے معالجین کے مطابق، ان کی صحت اب قدرے بہتر ہے۔ لہذٰا، ان کے مزید علاج کے انتظامات ان کی رہائش گاہ پر ہی کیے گئے ہیں۔ نواز شریف 16 روز تک سروسز اسپتال میں زیر علاج رہے۔

نواز شریف کے اسپتال سے گھر منتقلی کے وقت اُن کی والدہ شمیم بیگم اور چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی ساتھ تھے۔

نواز شریف کے علاج کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق نواز شریف کی صحت اب قدرے بہتر ہے۔ انہیں چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ۔
نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پرفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کا بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول میں ہے۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ دوران علاج اُنہیں انجائنا کا اٹیک ہوا تھا۔ لیکن اَب اُس میں بہتری ہے۔ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق، نواز شریف کو کچھ مزید ٹیسٹ تجویز کیے گئے ہیں جن میں 'جینیٹک ٹیسٹ' بھی شامل ہے۔ اس کی سہولت پاکستان میں نہیں ہے۔ ان کے بقول، نواز شریف یہ ٹیسٹ کرانے ملک سے باہر جاتے ہیں یا نہیں اس سے متعلق انہیں علم نہیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا نواز شریف متعدد بیماریوں کا شکار ہیں۔ انہیں شوگر، دل اور بلڈ پریشر کے عارضے لاحق ہیں۔

نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ایمبولینس کی بجائے بلٹ پروف گاڑی میں روانہ کیا گیا، جب کہ مریم نواز بھی ان کے ہمراہ روانہ ہوئیں۔

نواز شریف کو العزیزیہ اور چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔
نواز شریف کو العزیزیہ اور چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔

مریم اورنگزیب کے مطابق، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی زیر نگرانی شریف میڈیکل سٹی اسپتال نے جاتی امرا میں نواز شریف کے گھر ایک انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کر دیا ہے۔ ان کے بقول، نواز پلیٹ لیٹس کم ہونے اور اسپتال میں انفیکشن سے بچانے کے لیے ان کا علاج گھر میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نواز شریف کو 21 اکتوبر کو لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ نواز شریف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں تھے۔

نواز شریف کو گزشتہ سال احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ قومی احتساب بیورو(نیب) نے بھی نواز شریف کو چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار کیا تھا۔ نواز شریف کی صحت خراب ہونے کے باعث لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG