رسائی کے لنکس

نئی حکومت کی خارجہ پالیسی؛ ’شہباز شریف چین کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہوں گے‘


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کی نئی حکومت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کرنے کو ترجیح قرار دیا ہے۔تاریخی اعتبار سے پاکستان کے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات زیاہ خوش گوار نہیں رہے جب کہ مشرقی اور مغربی سرحد پر شورش اور خطرات کا سامنا بھی رہا ہے۔

پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اب یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا نئی حکومت اپنے روایتی حریف بھارت اور پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرسکے گی اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوگا؟

خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کے ساتھ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی جانب سے تہنیتی خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نئی دہلی سے پر امن تعلقات اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے۔

تاہم شہباز شریف کی طرف سے پانچ اگست کے بھارتی اقدام کا، جس کے ذریعے بھارت کے آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کی خود مختار حیثیت کا خاتمہ کیا گیا تھا، ذکر نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں اسلام آباد نے مؤقف اپنایا تھا کہ پانچ اگست کے اقدام کی واپسی تک بھارت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

پانچ اگست 2019 کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ سفارتی رابطے کم درجے پر آ چکے ہیں اور دو طرفہ تجارت معطل ہے۔

بھارت کی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کرکے وادی کو مرکز کے زیرِِ انتظام علاقہ قرار دیا تھا۔ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شہباز شریف گزشتہ حکومت کی شرائط کو نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا چاہیں گے؟

پی ٹی آئی کی حکومت نے بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا تعاون سے قبل نئی ہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی خودمختار حیثیت کی بحالی کی شرط عائد کی تھی اور اسے ریاست کا فیصلہ کہا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں کوئی بھی حکومت کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتی البتہ مذاکرات میں پیدا شدہ تعطل کو دور کرنے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیشگی شرائط کا ذکر نہیں کیا۔

’بین الاقوامی سیاست میں لچک اور سمجھوتے کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے‘

سابق سفارت کار اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ پاکستان چاہے گا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خود مختار حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ واپس لیا جائےالبتہ بین الاقوامی سیاست میں لچک اور سمجھوتے کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماضی میں تھا۔ پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کا مرکزی نکتہ مسئلہ کشمیر ہی ہوگا۔

دونوں ممالک میں مذاکرات میں تعطل آنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے علی سرور نقوی کا کہنا تھا کہ وہ بطور سفارت کار پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔ معاملات میں پیش رفت اس وجہ سے نہیں ہو پاتی کہ مسئلہ کشمیر کے باعث ڈیڈ لاک پیدا ہوجاتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ماضی کی حکمتِ عملی

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے نریندر مودی کو خط لکھنے اور اس میں کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کا ذکر نہ کرنے کے حوالے سے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال کہتے ہیں کہ شہباز شریف کا یہ اقدام مذاکرات میں تعطل کو دور کرنے کے لیے ہوگا البتہ کشمیر کو کسی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی ماضی میں بھی حکمتِ عملی رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دور کو یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ظفر جسپال کے بقول کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے آغاز کے لیے کہیں نہ کہیں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔

’ٹی ٹی پی کے حوالے سے کابل حکومت کا رویہ پاکستان کے حق میں نہیں ہے‘

افغانستان پاکستان کا مغربی پڑوسی ہے مگر تاریخی اعتبار سے کابل کے ساتھ اسلام آباد کے خوش گوار مراسم نہیں رہے۔

پاکستان اکثر ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ وہاں سے انتہا پسند گروہوں کو ملنے والی سہولت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پاکستان میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ افغان طالبان کی سہولت کاری سے ہونے والے مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

'ٹی ٹی پی کا نشانہ پاکستان ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:04 0:00

علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ افغانستان کا معاملہ پریشان کن ہے اور تشویش بڑھ رہی ہے کیوں کہ ہر قسم کی مدد اور تعاون کے باوجود ٹی ٹی پی کے حوالے سے کابل حکومت کا رویہ پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی حکومت کو تاحال دنیا نے تسلیم نہیں کیا اور پاکستان بھی چاہتا ہے کہ اس حوالے سے خطے کے ممالک کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جائے۔

’افغان طالبان سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں، ماضی جیسے مسائل نہیں‘

علی سرور نقوی کا کہنا تھا کہ جب تک طالبان کی عالمی سطح پر تنہائی ختم نہیں ہوگی وہ حکومت نہیں کرسکیں گے۔

اس حوالے سے ظفر جسپال کہتے ہیں کہ افغان طالبان سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں اور ماضی جیسے مسائل نہیں ہیں جو کہ دہشت گرد گروہوں کے سر زمین استعمال کرنے کے حوالے سے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے طالبان کی مجبوریاں ہیں کہ وہ انہیں نکال نہیں سکتے کیوں کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں انہی لوگوں کے پاس پناہ لیا کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ افغانستان 40 سال سے جنگ کی معیشت پر چلتا رہا ہے لہذا وہاں حالات بہتر ہونے کے لیے وقت درکار ہو گا۔

’نئی حکومت سی پیک منصوبوں کو اہمیت دے رہی ہے‘

مبصرین کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ دونوں ممالک عالمی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے ہیں۔

امریکہ کے چین کو معاشی طور پر ابھرنے سے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور پابندیوں کے بعد اسلام آباد کے لیے درینہ دوست ملک کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین نے دوطرفہ تعلقات میں عالمی دباؤ کو ماضی میں زیادہ اہمیت نہیں دی۔ نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف ماضی میں بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب چین کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

'مستحکم پاکستان امریکہ کی اپنی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:41 0:00

علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ شہباز شریف چاہیں گے کہ چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ نئی حکومت سی پیک کے منصوبوں کو دوبارہ اہمیت دے رہی ہے۔

شہباز شریف بیجنگ کےلیے زیادہ قابلِ قبول

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

ظفر جسپال کہتے ہیں کہ امریکہ چین کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور سی پیک کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے البتہ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسلام آباد بیجنگ سے اپنے مراسم خراب کر لے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جانتا ہے کہ چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کیسے لے کہ چلنا ہے۔

نئی حکومت کی حکمتِ عملی کے حوالے سے ظفر جسپال کہتے ہیں کہ شہباز شریف چین کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہوں گے کیوں کہ انہوں نے بطور وزیرِ اعلی، پنجاب میں سی پیک کے منصوبوں کو بہت تیزی سے مکمل کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG