رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک کی کہانی لکھنے پر 50 ہزار ڈالر انعام


امریکہ کے منفرد شہر نیویارک کے بارے میں سب سے اچھی کہانی لکھنے والے کے لیے 50 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

گوتھم ادبی انعام کا اعلان بزنس مین بریڈلے ٹسک اور سیاسی حکمت عملی کے ماہر ہاورڈ وولفسن نے جمعرات کو کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس ادبی انعام کا خیال انھیں گزشتہ سال آیا تھا۔ کرونا وائرس سے نیویارک کے متاثر ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی شدت سے ضرورت ہے۔

وولفسن نے کہا کہ ان کے خیال میں نیویارک کے فنون لطیفہ اور نیویارک کے بارے میں لکھنے والے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر یہ مناسب وقت ہے کہ ایسے انعام کا اعلان کیا جائے۔

وولفسن اور ٹسک انعام کی رقم خود دیں گے اور انھوں نے اسے سالانہ بنیادوں پر کم از کم 10 سال جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ دونوں کی دوستی 2009 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ کے دوبارہ انتخاب کی مہم میں ایک ساتھ کام کررہے تھے۔

پہلا انعام آئندہ سال موسم بہار میں فکشن یا نان فکشن کی ایسی کتاب کو دیا جائے گا جو نیویارک کے بارے میں ہوگی یا جس کی کہانی نیویارک کے گرد گھومے گی۔ اس کے لیے ڈیڈلائن یکم نومبر مقرر کی گئی ہے۔

ماضی میں ایسی کتابوں کی مثالیں رابرٹ کیرو کی دا پاور بروکر، ٹام وولف کی دا بون فائر آف وینیٹیز اور ٹونی موریسن کی جاز ہیں۔

گوتھم ادبی انعام کے منصفین میں فلم میکر رک برنز، شاعر سفینا سنکلیئر اور نیویارک سٹی اسکولز کے سابق چانسلر ڈینس والکاٹ شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG