رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں بات چیت کا نیا دور شروع


فائل فوٹو

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا نیا دور قطر کے شہر دوحا میں اس اُمید کے ساتھ شروع ہو گیا ہے کہ مسئلے کے حل کی جانب مزید پیش رفت ہو جائے گی۔

مذاکرات کا یہ دور ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چار روزہ لویہ جرگہ جاری ہے جس میں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے سلسلے میں ایک متفقہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت متعد اپوزیشن رہنماؤں نے اس جرگے کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی طرف سے بلائے گئے اس لویہ جرگے کا مقصد آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے اپنا قد بڑھانے کی ان کی ایک کوشش ہے۔ اس جرگے میں اُن کے تمام مخالف صدارتی اُمیدوار شریک نہیں ہیں۔

دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی افغانستان کے لیے اعلیٰ ترین مذاکراتی نمائندے زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں جو امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلکس ویلز کے ہمراہ پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دوحا پہنچے ہیں۔

طالبان کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دوحا مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان 16 روز قبل ہونے والے مذاکرات میں طے کیے گئے سمجھوتے کی بعض تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

بتایا جاتا ہے کہ اگر اس سمجھوتے پر اتفاق کر لیا گیا تو طالبان کے لیے یہ لازمی ہو جائے گا کہ وہ امریکہ اور دیگر ممالک کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال نہ کریں، جب کہ اس کے بدلے میں امریکہ افغانستان سے امریکی اور دیگر تمام غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلاء سے متعلق ایک ٹائم ٹیبل پر رضامند ہو جائے گا۔

زلمے خلیل زاد پہلے ہی یہ کہ چکے ہیں کہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے قبل طالبان کو مکمل فائربندی اور کثیر جہتی امن مذاکرات میں اپنی شرکت کی ضمانت دینا ہو گی۔

طالبان امن مذاکرات میں صدر اشرف غنی کی افغان حکومت کی شمولیت کو یہ کہتے ہوئے مکمل طور پر رد کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔ اشرف غنی 28 ستمبر کے انتخابات میں ایک بار پھر صدارتی اُمیدوار ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG