رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر اتفاق


فائل فوٹو

نیا معاہدہ 'نافٹا' کی جگہ لے گا جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین آزاد تجارت کا معاہدہ ہے۔ 'نافٹا' 1994ء میں طے پایا تھا جس میں شامل تینوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 12کھرب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

امریکہ اور کینیڈا نے آزاد تجارت کے معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے جو دونوں ملکوں اور میکسیکو کے مابین موجود 'نارتھ امریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ (نافٹا) کی جگہ لے گا۔

معاہدے پر اتفاقِ رائے کااعلان امریکی اور کینیڈین حکام نے اتوار کی شب کیا۔ امریکی حکام نے معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے اتوار کی نصف شب کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر ڈیڈلائن سے قبل کینیڈا نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو امریکہ اس کے بغیر ہی میکسیکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردے گا۔

امریکہ اور میکسیکو نے اس معاہدے پر اگست کے اواخر میں اتفاق کرلیا تھا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کینیڈا اس کا حصہ نہ بنا تو ان کی حکومت اسے میکسیکو کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کی شکل میں نافذ کردے گی۔

کینیڈین حکام کو امریکہ اور میکسیکو کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر تحفظات تھے جنہیں دور کرنے کےلیے دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات ایک ماہ سے جاری تھا۔

اتوار کو ڈیڈلائن سے قبل بھی سارا دن دونوں ملکوں کے تجارتی حکام کے درمیان مذاکرات جاری رہے جس کے اختتام پر نصف شب سے کچھ دیر قبل معاہدے پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا گیا۔

امکان ہے کہ صدر ٹرمپ، کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیتو آئندہ 60 روز کے دوران نئے معاہدے پر دستخط کردیں گے جسے 'یو ایس – میکسیکو – کینیڈا ایگریمنٹ' (یو ایس ایم سی اے) کا نام دیا گیا ہے۔

معاہدے کو امریکی کانگریس کی توثیق درکار ہوگی اور صدر ٹرمپ پہلے ہی قانون سازوں سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ نئے معاہدے کی منظوری دیں۔

نیا معاہدہ 'نافٹا' کی جگہ لے گا جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین آزاد تجارت کا معاہدہ ہے۔ 'نافٹا' 1994ء میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں طے پایا تھا۔

'نافٹا' میں شامل تینوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 12کھرب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ 'نافٹا' معاہدے کے کڑے ناقد ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد کینیڈا اور میکسیکو کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس معاہدے میں وہ تبدیلیاں نہ کیں جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ 'نافٹا' کی وجہ سے امریکہ میں بڑی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی صنعتیں یا ان کے بیشتر شعبے کم لاگت کی وجہ سے میکسیکو منتقل ہوچکے ہیں جس سے امریکہ میں مزدور طبقے میں بے روزگاری بڑھی ہے۔

'نافٹا' میں اصلاحات پر مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری تھا جس کی وجہ سے کینیڈا اور میکسیکو کو معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG