رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ مواخذہ: 'یوکرین کی حکومت کو کہا گیا انہیں تحقیقات کرنی ہوں گی'


بل ٹیلر (فائل فوٹو)

یوکرین میں تعینات امریکی سفارت کار بل ٹیلر نے اقرار کیا ہے کہ یہ مکمل طور پر واضح تھا کہ یوکرین کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روکی گئی امداد تب تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک یوکرین سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا آغاز نہیں کرتا۔

صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے پچھلے ماہ دیے گئے بیان میں بل ٹیلر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے لیے امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ نے انہیں متعدد بار بتایا کہ صدر ٹرمپ اسے کچھ دو اور کچھ لو کے طور پر نہیں دیکھتے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یوکرین کی روکی گئی امداد کو جو بائیڈن کے خلاف کی جانے والی تحقیقات سے مشروط نہیں کیا گیا تھا۔

اپنے بیان میں بل ٹیلر کا مزید کہنا تھا کہ گورڈن سونڈ لینڈ نے یوکرین کی حکومت کو کہا کہ انہیں یہ تحقیقات کرنی ہوں گی۔

بل ٹیلر کا بیان حلفی بدھ کے روز جاری کیا گیا۔ وہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مواخذے کی سماعت میں بیان دیں گے۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے بل ٹیلر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مکمل طور پر واضح تھا کہ یوکرین کو سیکیورٹی مقاصد کے لیے امداد تب تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی تحقیقات شروع کرنے کا وعدہ نہیں کرتے۔

بل ٹیلر کا بیان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار ڈیوڈ ہیل کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیوڈ ہیل نے کہا تھا کہ یوکرین میں تعینات سابق امریکی سفیر میری یووانوچ کو ان کے عہدے سے اس لیے فارغ کیا گیا کیونکہ وہ جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے میں رکاوٹ سمجھی جا رہی تھیں۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا۔

جو بائیڈن 2020 میں صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواران میں سرِ فہرست ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی سرعام سماعت

ڈیموکریٹس نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت کی جائے گی۔

اس سماعت کا مقصد صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کردہ بیانات کو عوام کے سامنے لانا ہے۔

سرعام کی جانے والی اس سماعت میں سب سے پہلے یوکرین میں تعینات سفارت کار ولیم ٹیلر اپنا بیان بدھ کو ریکارڈ کروائیں گے۔

جن کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کو روکی جانے والی امداد کچھ دو اور کچھ لو کے وعدے کے تحت روکی گئی تھی۔

میری یووانوچ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ انہیں جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ (فائل فوٹو)
میری یووانوچ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ انہیں جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ (فائل فوٹو)

ولیم کے علاوہ یوکرین میں تعینات سابق امریکی سفیر میری یووانوچ عوام کے سامنے اپنا بیان جمعے کے روز دیں گی۔

جن کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ انہیں جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کرانے میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ اس لیے انہیں ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سرعام سماعت میں گواہی دینے والے پہلے ہی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG