رسائی کے لنکس

ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کے دوران رپبلکنز کا شور شرابہ


واقع کے چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ رپبلکن ارکان نے کیپیٹل پولیس کے اہلکاروں کو پیچھے دھکیلا اور چیخنا چلانا شروع کردیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی کو روکنے کے لیے رپبلکن ارکان ڈٹ کر سامنے آ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے رپبلکن اراکین کو ہدایت کی تھی کہ وہ مواخذے کی کارروائی کی بھرپور مزاحمت کریں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق درجنوں رپبلکن ارکان نے کمرہ سماعت میں داخل ہو کر شور شرابہ شروع کر دیا۔ ایوانِ نمائندگان میں روس اور یوکرین سے متعلق امریکی محکمہ دفاع کی خاتون عہدیدار لارا کوپر سے جرح کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں تھیں۔ کشیدہ صورتِ حال کے پیش نظر مقامی پولیس کو بھی طلب کر لیا گیا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق رپبلکن ارکان ممانعت کے باوجود موبائل فونز کے ہمراہ کمرہ سماعت میں داخل ہوئے۔

رپبلکنز کا اعتراض کیا تھا؟

رپبلکن رکن ایوانِ نمائندگان مارک میڈوز کا کہنا تھا کہ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے صدر کے مواخذے کے لیے طے کردہ قواعد و ضوابط پر انہیں اعتراض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مواخذے کی کارروائی کے لیے شفاف اور غیر جانبدار طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا ان کے اراکین اس کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

رپبلکنز اراکین ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے ہیں۔
رپبلکنز اراکین ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی قانون میں ایوانِ نمائندگان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مواخذے کی کارروائی کے لیے طریقہ کار وضع کریں۔ ہاؤس کی تین کمیٹیاں صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کر رہی ہیں۔

کمرے میں موجود ایک عینی شاہد نے رائٹرز کو بتایا کہ سیخ پا رپبلکن اراکین نے پولیس کو پیچھے ہٹاتے ہوئے شور مچانا شروع کر دیا۔ ان اراکین کا یہ مطالبہ تھا کہ گواہوں سے کی جانے والی جرح کو خفیہ رکھنے کی بجائے عام کیا جائے۔

ڈیموکریٹ ارکان کا ردعمل

رپبلکنز کے اس اقدام پر ڈیمو کریٹک ارکان نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ڈیموکریٹک رکن ٹیڈ لیو کا کہنا تھا کہ "صدر کے مواخذے پر رپبلکنز گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ وہ صدر کے خلاف گواہی سننے کو تیار نہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ سے متعلق مزید حقائق منظر عام پر آ جائیں گے جس سے ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔"

ڈیموکریٹ رکن سٹیفن لنچ کا کہنا ہے کہ رپبلکنز کے اس رویے کی وجہ سے کوپر صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق ہونے والی تحقیقات میں اپنی گواہی نہیں دے سکیں۔ جس کے باعث مواخذے کی کارروائی کو ملتوی کر دیا گیا۔

صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو مذاق قرار دے چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو مذاق قرار دے چکے ہیں۔

مواخذے کی کارروائی صدر ٹرمپ کی گزشتہ جولائی میں یوکرین کے نئے صدر ولادی میر زیلینسکی سے فون پر ہونے والی بات چیت کے تناظر میں ہو رہی ہے۔ جس میں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ہم منصب سے سابق نائب صدر جو بائیدن اور اُن کے بیٹے کے خلاف کاروباری بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات پر زور دیا تھا۔

جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے کلیدی صدارتی امیدواروں میں سے ایک ہیں۔

تاہم جو بائیڈن یا اُن کے بیٹے کے خلاف امریکہ میں یا یوکرین میں کسی کاروباری بے ضابطگیوں کے بارے میں اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ایک مذاق قرار دے چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG