رسائی کے لنکس

logo-print

فلم 'نومیڈ لینڈ' نے پروڈیوسرز گِلڈ آف امریکہ ایوارڈ اپنے نام کر لیا


فائل فوٹو

فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ آسکرز سے قبل ڈرامہ فلم 'نومیڈ لینڈ' کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے۔ گولڈن گلوب کے بعد اس فلم نے پروڈیوسرز گِلڈ آف امریکہ (پی جی اے) ایوارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔

کلووی ژاؤ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'نومیڈ لینڈ' کو بدھ کو منعقدہ 32ویں سالانہ پی جی اے ایوارڈ میں موشن پکچر کے بہترین پروڈیوسر کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

نومیڈ لینڈ پی جی اے ایوارڈ حاصل کرنے والی دوسری ایسی فلم ہے جس کی ہدایت کاری ایک خاتون نے انجام دی۔ اس سے قبل امریکی ہدایت کارہ کیتھرین بگلو کی 2010 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دی ہرٹ لوکر' پی جے اے ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

بتیسویں سالانہ پی جی اے ایوارڈز میں بہترین اینی میٹڈ فلم کا ایوارڈ 'سول' نے اپنے نام کیا جب کہ بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ 'مائے آکٹوپس ٹیچر' کے نام رہا۔

پی جی اے ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم 'نومیڈ لینڈ' صرف پچاس لاکھ ڈالرز کے بجٹ میں تیار ہونے والی فلم ہے جس میں متعدد غیر پیشہ وارانہ فن کاروں نے اداکاری کی ہے۔ ایسے میں ایک کم بجٹ والی فلم کے لیے پی جی اے ایوارڈ جیتنے کو غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے۔

ایوارڈ قبول کرتے وقت فلم کے پروڈیوسر پیٹر اسپیئرس نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ 'ایک ایسے سال میں جہاں ہم سب الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں، فلمیں بہت اہم محسوس ہوئی ہیں، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے معاشرے سے متعلق فلم بنائی۔'

خیال رہے کہ پروڈیوسرز گِلڈ آف امریکہ ایوارڈز کو فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز آسکرز کے حوالے سے ایک اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک عام تاثر ہے کہ پی جی اے ایوارڈ جیتنے والی فلم کے لیے آسکر جیتنا آسان ہو جاتا ہے۔

پی جی اے ایوارڈ کا فیصلہ پروڈیوسرز اسی طرح بیلٹ کے ذریعے کرتے ہیں جیسے آسکر کے انتخاب کے لیے فلم اکیڈمی کرتی ہے۔

فلم نومیڈلینڈ اس سے پہلے بھی ایوارڈ جیت چکی ہے (فائل فوٹو)
فلم نومیڈلینڈ اس سے پہلے بھی ایوارڈ جیت چکی ہے (فائل فوٹو)

رواں برس پروڈیوسرز کی جانب سے کچھ فلمیں بہترین فلموں کے لیے نامزد کی گئی تھیں جنہیں اکیڈمی نے بھی بہترین فلم کے آسکر کے لیے نامزد کیا۔ ان فلموں میں 'بورت سبسیکوئنٹ مووی فلم'، 'ون نائٹ ان میامی'، اور 'مے رینیز بلیک بوٹم' شامل ہیں جب کہ پروڈیوسرز نے 'دی فادر' کی منظوری روک دی تھی لیکن وہ آسکر کی نامزدگی میں شامل ہے۔

گزشتہ 11 برسوں میں جب سے آسکر نے بہترین پکچر کی کیٹیگری میں توسیع کی ہے۔ آٹھ مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پی جی اے ایوارڈ جیتنے والی فلم کو ہی آسکر ملا ہے۔ تاہم گزشتہ برس ایسا نہیں۔

گزشتہ برس پروڈیوسرز گِلڈ آف امریکہ ایوارڈز نے فلم '1971' کو بہترین فلم قرار دیا تھا لیکن بہترین فلم کا آسکر 'پیراسائٹ' کے نام رہا۔

اسی طرح 2017 میں فلم 'لا لا لینڈ' کو پی جی اے ایواڈز سے نوازا گیا تھا لیکن آسکرز میں بہترین پکچر کا اعزاز 'اسپاٹ لائٹ' حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG