رسائی کے لنکس

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر


سپریم کورٹ نے حکومت کو آرمی چیف کی مدتِ ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی وفاقی حکومت نے برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق وفاقی حکومت کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی درخواست میں استدعا کی ہے کہ درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

حکومت نے درخواست کی اِن کیمرا سماعت کی بھی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیصلے میں اہم آئینی و قانونی نکات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اور ایڈہاک ججز کو بھی سپریم کورٹ ماضی میں توسیع دیتی رہی ہے۔ تاہم، عدالت نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق اپنے فیصلے میں ججز توسیع کیس کے فیصلوں کو بھی مدِ نظر نہیں رکھا۔

حکومتی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا تعین وزیرِ اعظم کا اختیار ہے جب کہ فیصلے میں ایگزیکٹو کے اختیارات کو کم کیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق، "قانون میں آرمی چیف کی مدت ملازمت کا تعین کرنا ضروری نہیں ہے اس لیے آرمی چیف کی مدت کا تعین کرنا آئین کے منافی ہے۔ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ وزیر اعظم جب چاہیں رکھیں جب چاہیں ہٹا دیں۔

حکومتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرمی سیکیورٹی کا ادارہ ہے۔ عدالت اپنے 28 نومبر کے مختصر اور 16 دسمبر کے تفصیلی فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 16 دسمبر کو جاری اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو قانونی حمایت حاصل نہیں ہے اور آئینی عہدے کی مدت کو ریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

کیس کا پسِ منظر

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک وکیل ریاض حنیف راہی نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق ایک آئینی پٹیشن دائر کی۔

درخواست گزار نے بعدازاں اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ لیکن، عدالت نے اس پر سماعت جاری رکھی اور اس میں مختلف نکات کا جائزہ لیا۔

اس کیس کی سماعت کے دوران حکومت نے تسلیم کیا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت اور اس میں توسیع سے متعلق کوئی قانون، آئین یا آرمی ایکٹ میں اس سے متعلق کچھ موجود نہیں ہے، اور نہ ہی کسی ریٹائرڈ آفیسر کو آرمی چیف تعینات کرنے پر کوئی پابندی ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران حکومت نے تین مختلف نوٹی فکیشن عدالت کے سامنے پیش کیے، لیکن عدالت کو مطمئن نہ کر سکی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 26 نومبر کو اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ قانون اور آئین میں مدتِ ملازمت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ عدالت نے چھ ماہ میں قانون سازی سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کا کہا جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دی گئی اور آئندہ چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہونے پر اُنہیں ریٹائر کرکے نئے افسر کو آرمی چیف تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس کیس کا تفصیلی فیصلہ 16 دسمبر کو جاری ہوا جس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ تحریر کیا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ لامحدود اختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے اس لیے غیر متعین صوابدید خطرناک ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع، دوبارہ تقرری کی شرائط و ضوابط کا کسی قانون میں ذکر نہ ہونا تعجب انگیز تھا، آئین کے تحت صدر کے مسلح افواج سے متعلق اختیارات قانون سے مشروط ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG