رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ


دونوں ملکوں کے درمیان بدھ کو ہونے والا فہرستوں کا یہ تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان 1988 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

جوہری ہتھیاروں کے حامل جنوبی ایشیا کے دو جوہری ملک پاکستان اور بھارت نے سالِ نو کے آغاز پر اپنی اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا آپس میں سفارتی سطح پر تبادلہ کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان بدھ کو ہونے والا فہرستوں کا یہ تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان 1988 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔

اس معاہدے کی رو سے دونوں ملک ہر نئے سال کے آغاز پر اپنے اپنے ملک میں جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔

یکم جنوری 2020 کو جوہری فہرستوں کا تبادلہ دونوں ملکوں کے درمیان 29ویں بار ہوا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جوہری تنصیبات کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر کے حوالے کی۔

اسی طرح نئی دہلی میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے ہائی کمیشن کو اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست فراہم کی ہے جس کی تصدیق بھارت کی وزارتِ خارجہ نے بھی کی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نا کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

یہ معاہدہ پہلی مرتبہ 27 جنوری 1991 کو نافذالعمل ہوا اور یکم جنوری 1992 میں پہلی بار اسلام آباد اور نئی دلی کے درمیان اپنی اپنی جوہری تنصیبات کا تبادلہ کیا تھا۔ اس وقت سے اب تک یہ عمل بغیر کسی توقف کے جاری ہے۔

قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

سال نو کے آغاز پر پاکستان اور بھارت اپنے اپنے ہاں قید پاکستانی اور بھارتی شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے بھی پابند ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے بدھ کو اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کو پاکستان میں قید بھارتی شہریوں کی فہرست فراہم کر دی ہے۔

اس فہرست کے مطابق پاکستان کی مختلف جیلوں میں اس وقت 282 بھارتی شہری قید ہیں جن میں 55 عام شہری جبکہ 227 ماہی گیر ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 21 مئی 2008 کو سفارتی رسائی سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے تحت اسلام آباد اور نئی دہلی ہر سال یکم تاریخ کو اپنے اپنے ہاں قید شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG