رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما اور بش کا آنجہانی سینیٹر جان مکین کو والہانہ خراج عقیدت


ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنےوالے سابق صدر براک اوباما نے موجودہ امریکی سیاست کو ''فضول اور حقیر'' قراد دیا ہے۔

اُنہوں نے یہ بات ہفتے کے روز 'واشنگٹن نیشنل کیتھڈرل' میں طویل مدت تک سینیٹر رہنے والے جان مکین کے لیے منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو ایک ہفتہ قبل دماغ کے سرطان سے مقابلہ کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔

اس موقعے پر اوباما نے اپنے دوست اور کبھی کبھار کے سیاسی مخالف کی شان میں مدح سرائی کی۔ اُنھوں نے کہا کہ ''کیا ایسا نہیں ہے کہ جس شخص کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ہم اکٹھے ہوئے ہیں اُنھوں نے بہتری کے لیے کاوش کی تھی۔ اُنھوں نے ایک عظیم ورثہ چھوڑا، جس کی حرمت کا ہمارے ملک کے بانیوں نے درس دیا تھا''۔

اوباما کے الفاظ میں ''ہماری سیاست، ہمارا عام رہن سہن، ہمارا انداز تخاطب سب ہی گر چکا ہے؛ ہم بے عزتی، بیکار تنازعات اور مصنوعی غصے کا اظہار کرنے پر کمر بستہ ہو چکے ہیں''۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر، اوباما نے مزید کہا کہ ''ایسی سیاست جس میں بہادر اور سخت گیر ہونے کا ذکر کیا جائے؛ جب کہ درحقیقت، اس کی بنیاد خوف ہو، جان نے ہم پر زور دیا تھا کہ ہم اس سے بلند ہو کر آگے نکلیں۔ اُنہوں نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ ہم بہتری کی جانب بڑھیں''۔

اپنے ساتھی ری پبلیکن نمائندے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے کلمات میں کہا کہ مکین ''عزت دار انسان تھے، جو اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ اُن کے مخالفین محب وطن اور اچھے انسان ہیں''۔

لیکن، بش نے مزید کہا کہ اُنھوں نے بھی واشنگٹن کی سیاست میں 'جوں کے توں' رہنے کے انداز کو ٹھکرایا تھا۔ 'اسیٹس کو' اپنانے کا انداز، مکین کے ذاتی اصولوں کے منافی تھا۔

بش نے کہا کہ ''وہ ہر انسان کی عزت کے قائل تھے، جو عزت کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوا کرتی اور کوئی مطلق العنان اِسے مٹا نہیں سکتا۔ اِس سے بڑھ کر، شاید جان کو اختیارات کے بے جا استعمال سے چِڑ تھی''۔

جب مکین دماغ کے کینسر کا علاج کرا رہے تھے، اُنھوں نے اپنے دوستوں بش اور اوباما کو اپنے انتقال کے بعد منعقد ہونے والے تعزیتی اجلاس کے لیے مدعو کیا تھا۔

بش اور اوباما آنجہانی کے سینکڑوں اہل خانہ، احباب، کانگریس کے سابق ساتھیوں اور عملے کے ارکان میں شامل تھے جو کیتھیڈرل میں اکٹھے ہوئے، جہاں قومی پرچم میں ڈھانپا ہوا جسد خاکی رکھا ہوا تھا۔

درجنوں موجودہ اور سابق امریکی اہلکار، کانگریس کے ارکان اور غیر ملکی زعما بھی اس موقعے پر موجود تھے۔

مکین کی بیٹی، میگھن نے بھی اپنے آنجہانی والد کو خراج عقیدت پیش کیا، اور اشارتاً ٹرمپ اور 'امریکہ کو عظیم بنانے کے دعوے' کا ذکر کیا۔

بقول اُن کے، ''امریکہ کو بڑے بول بولنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جان مکین کے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی ضرورت نہیں، چونکہ امریکہ ہمیشہ ہی سے عظیم رہا ہے''۔

اتوار کے روز مکین کی تدفین میری لینڈ کے شہر اناپولس میں واقع 'یو ایس نیول اکیڈمی'، جہاں سے اُنہوں نے تعلیم حاصل کی تھی، میں کی جائے گی۔

بائیڈن نے جمعرات کے روز اپنے دیرینہ دوست کو ایک ایسا شخص قرار دیا تھا ''جس نے پوری زندگی عزت و ہمت اور فرائض کی انجام دہی میں گزاری''۔

ایریزونا کے دارالحکومت، فونکس میں ایک تعزیتی مجلس میں اپنے کلمات ادا کرتے ہوئے، بائیڈن نے کہا تھا کہ ''کردار نصیب سے ملتا ہے، اور جان کردار کے دھنی تھے''۔

مکین کا گذشتہ ہفتے 81 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG