رسائی کے لنکس

logo-print

’میموریل ڈے‘ پر اوباما کا جان نثار کرنے والوں کو خراج ِعقیدت


اپنے ہفتہ وار خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’’یہ وہ دِن ہے جب ہم اُنھیں یاد کرتے ہیں جو ملک نہیں لوٹے؛ جنھیں اپنی وردی تبدیل کرنے کا بھی موقعہ نہ ملا، جنھیں ہم عزت سے سابقہ فوجی کہہ کر پکارتے ہیں‘

امریکہ میں مئی کے آخری پیر کو ’میموریل ڈے‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد امریکی فوج میں خدمات بجا لاتے ہوئے جان کی قربانی دینے والے مرد و خواتین فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہوتا ہے۔

اپنے ہفتہ وار خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ’’یہ وہ دِن ہے جب ہم اُنھیں یاد کرتے ہیں جو ملک نہیں لوٹے؛ جنھیں اپنی وردی تبدیل کرنے کا بھی موقعہ نہ ملا، جنھیں ہم عزت سے سابقہ فوجی کہہ کر پکارتے ہیں‘‘۔

اوباما نے کہا کہ میموریل ڈے کا خیال ’’عام شہریوں کی جانب سے پیش کیا گیا جنھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ہم جنگ میں جان کا نذرانہ دینے والے ہر فوجی کے لیے یادگار قائم نہیں کرسکتے۔ تاہم، ہم ہر سال یہ دِن منا کر، جہاں وہ مدفون ہیں اُن مقامات کو سجا کر، اُن کی یاد تازہ کر سکتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم وردی والے اپنے مرد و خواتین کو یاد رکھیں۔۔۔ یہ بات یقینی بنانی چاہیئے کہ ہم ماسوائے ناگزیر ضرورت کے، اپنے کسی پیارے کو لڑائی کے لیے نہ بھیجیں‘‘۔

اوباما نے کہا کہ وہ اور خاتونِ اول مشیل اوباما نے ’’شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ کئی لمحات گزارے ہیں۔۔۔ اُنھوں نے ہمیں اپنی تکالیف بتائی ہیں، اور ہمارے پرچم کو بلند کرتے ہوئے اُنھوں نے اپنے پیاروں کی قربانی پر فخر کیا ہے‘‘۔

’میموریل ڈے‘ پر اُنھوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ کچھ لمحات نکال کر ملک کے سابق فوجیوں کے لیے خاموشی سے دعا کریں یا کھل کر شکریہ کا لفظ ادا کریں‘‘۔

صدر نے کہا کہ ’’شہدا کی قبروں‘‘ پر پھول نشاور کیے جائیں یا ’’بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہمارے فوجیوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے کوئی کام کیا جائے‘‘ یا سابق فوجی کو ’’جو ملک واپسی پر خدمات انجام دینا چاہتا ہو، روزگار کی فراہمی میں مدد دی جائے‘‘۔

اوباما کے بقول، ’’ملک کے لیے جان نثار کرنے والوں کا ہم کبھی احسان نہیں چکا سکتے‘‘۔

XS
SM
MD
LG