رسائی کے لنکس

logo-print

چار کروڑ 80 لاکھ ایرانیوں کے پاس اسمارٹ فون ہیں


ایران (فائل)

سال 2018ء اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ایران کے شہروں میں جاری مظاہروں میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، سال 2009 میں 15 فی صد سے کم ایرانیوں کو انٹرنیٹ تک رسائی تھی

سال 2009 میں دنیا نے دیکھا کہ ایرانی سڑکوں پر نکلے اور لوگوں کو منظم کرنے اور اطلاعات ’شیئر‘ کرنے کے لیے ’ٹوئٹر‘ اور ’فیس بک‘ جیسے سماجی میڈیا کی جانب دھیان دیا گیا۔ اِسے ٹیکنالوجی کی مدد سے احتجاجی مظاہروں کو پہلا ’’ٹوئٹر انقلاب‘‘ قرار دیا گیا۔

سال 2018ء اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ایران کے شہروں میں جاری مظاہروں میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم، اِن برسوں کے دوران، بہت کچھ تبدیل ہوا، اور جب معاملہ احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے اور اُس کی ترسیل کا ہو جیسا کہ رابطے کے ذرائع کے استعمال سے کیا جا رہا ہے۔

مندرجہ ذیل چند اہم تبدیلیاں:

اول، سمارٹ فون کے انقلاب کے باعث بہت سارے ایرانی انٹرنیٹ کا استعمال کرنے لگے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق، سال 2009 میں 15 فی صد سے کم ایرانیوں کو انٹرنیٹ تک رسائی تھی۔

ایسے میں جہاں تک مظاہروں کے بارے میں دنیا بھر کو آگاہ کرنے کے لیے ’ٹوئٹر‘ کا استعمال کیا گیا۔ یہ واضح نہیں آیا سیاسی اقدامات کو منظم کرنے میں اس کا کس قدر عمل دخل رہا ہے۔

روداد کچھ یوں بھی بتائی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میں بالمشافیٰ گفتگو کے ساتھ ساتھ سیل فون پر ’ایس ایم ایس‘ پیغامات نے (محض 30 فی صد ایرانیوں کے پاس سیل فون کی سہولت موجود ہے) بھی بڑا کردار ادا کیا۔

اب، جب ایران میں سمارٹ فون نمودار ہوئے ہیں، تقریباً نصف ایرانی، یا چار کروڑ 80 لاکھ لوگوں کے پاس سمارٹ فونز ہیں۔ ادھر، 50 فی صد سے زائد ایرانیوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔

دوم، پیغامات کی بھرمار

سال 2009ء میں ’فیس بک‘ اور ’ٹوئٹر‘ کے استعمال میں ایرانی نسبتاً نوآزمود ہیں جو زیادہ تر اپنے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں کے سامنے بیٹھ کر خبررسانی کی سہولیات سے استفادہ کرتے ہیں۔

سال 2009 میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، اوباما انتظامیہ نے ’ٹوئٹر‘ سے کہا کہ ’اپ ڈیٹ‘ میں تاخیر سے کام لیا جائے، جس سے سروس آف لائن چلی جائے، تاکہ ایرانی اس قابل ہوں کہ اس کا استعمال جاری رکھیں۔

اب ایرانی شہریوں کے پاس پیغام بھیجنے اور وصول کرنے کے کئی ایک مواقع موجود ہیں، براہِ راست اُنہی آلات کی مدد سے جو اُن کی جیبوں میں موجود ہیں۔

اِن نئی سہولیات میں سے، ایران میں جو سروسز سب سے زیادہ معروف سروس ’ٹیلی گرام‘ ہے، جو پیغام رسانی کا ایک فوری ذریعہ ہے جو خفیہ ’چیٹ‘ اور ’چینلز‘ کی ’انکرپٹڈ‘ سروس میسر کرتی ہے، جس پر لوگ خبروں اور حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں۔ اعداد و شمار پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’ٹیلی گرام‘ پر 100000 سے زائد ایرانی چینلز موجود ہیں؛ جب کہ ’فیس بک‘ کی ’انسٹاگرام‘ دوسرے درجے پر معروف ترین سروس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG