رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی میں برائے نام جمہوریت ہے، ترک ادیب اورحان پامک


نوبیل انعام یافتہ ترک ادیب اورحان پامک نے کہا ہے کہ ان کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ترکی میں جمہوریت ہے۔ وہاں کافی زیادہ مطلق العنانی ہے اور یہ اظہار کی آزادی کے لیے اچھی صورتحال نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بات الحمرا آرٹس کونسل میں جاری لاہور لٹریچر فیسٹول کے پہلے دن گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ارحان پامک بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کا ناول مائی نیم از ریڈ دنیا بھر میں ان کی پہچان بنا ہے۔ ان کی کتابیں 63 زبانوں میں ترجمہ اور دنیا بھر میں سوا کروڑ سے زیادہ تعداد میں فروخت ہوچکی ہیں۔ انھیں 2006 میں ادب کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

لاہور لٹریچر فیسٹول میں گفتگو کے سیشن میں اورحان پامک نے کہا کہ وہ پاکستان آکر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں کہ تاخیر سے یہاں آئے ہیں۔ سیشن کے میزبان احمد رشید نے سوال کیا کہ ان کی ذات اور استنبول کا شہر ایک دوسرے کی پہچان بن گئے ہیں۔ کیا انھوں نے ایسا شعوری طور پر کیا؟ اورحان پامک نے کہا، نہیں۔ میں دوسرے ادیبوں کی طرح عام انسانوں کی کہانیاں لکھتا تھا۔ جب نوے کی دہائی میں میری کہانیوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوا تو غیر ملکی نقادوں نے بار بار استنبول کو میری ذات سے جوڑا اور مقامی نقادوں نے بھی ان کی پیروی کی۔

ادبی حلقوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ کسی ادیب کو کسی شہر کے ساتھ منسلک کردیتے ہیں۔ میں ان خوش نصیب ادیبوں میں سے ایک ہوں جس کا نام اس کے شہر استنبول کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ اپنے شہر کے بارے میں مزید لکھوں۔ میں نے ساٹھ ستر سال میں اس شہر کی آبادی کو بیس لاکھ سے پونے دو کروڑ تک جاتے دیکھا ہے۔ بہت کم شہروں نے اس طرح ترقی کی ہے اور میں نے یہ سب ہوتے دیکھا ہے۔

اورحان پامک نے بتایا کہ ان کے دادا، والد اور چچا سب سول انجینئر تھے اس لیے انھیں بھی آرکیٹیکچر سے دلچسپی تھی۔ گھر والوں کے کہنے پر انھوں نے بھی اس مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں پینٹنگ سے بھی دلچسپی رہی اور رنگ انھیں بھاتے ہیں۔ اس کا ثبوت ان کا ناول سرخ میرا نام ہے۔ وہ دل بہلانے کو مصوری کرتے ہیں اور چیزوں کو تفصیل سے بیان کرنے کا ہنر اسی شوق کی بدولت آیا ہے۔ ان کی ذات میں ادیب اور مصور کی کشمکش جاری ہے اور ختم نہیں ہوئی۔ لیکن ادبی مصروفیات کی وجہ سے ان کے پاس مصوری کو دینے کے لیے وقت نہیں۔

اورحان پامک نے اپنے ناولوں کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی اور بتایا کہ انھیں لکھنے کا خیال کیسے آیا۔ انھوں نے کہا کہ سرخ میرا نام لکھنے سے پہلے انھیں کافی مطالعہ کرنا پڑا۔ لوگوں نے ان کی توقع سے زیادہ اس کی پذیرائی کی۔ انھوں نے اپنی نئی دی نائٹ پلیگ کے بارے میں بتایا جس میں انھوں نے استنبول کی راتوں کا تذکرہ کیا ہے اور پیلی روشنیوں کے کھوجانے پر افسوس کا اظہار کیا جن کی جگہ دودھیا روشنی کے بلبوں نے لے لی ہے۔

احمد رشید نے پوچھا کہ آپ کے عثمانی خلافت کے عہد کی اس قدر زیادہ معلومات کیسے ہے؟ اورحان پامک نے انکساری سے کہا کہ انھیں زیادہ معلومات نہیں ہے۔ لیکن ایک ناول نگار کی حیثیت سے یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ قاری کو مطمئن کریں۔ اس کے لیے بہت زیادہ معلومات درکار نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ ادیب کو کرداروں پر بھی محنت کرنا پڑتی ہے اور انھیں ایسا پیش کرنا پڑتا ہے کہ لوگ ان کا یقین کرلیں۔

اورحان پامک کے تین ناول اردو میں ترجمہ ہوچکے ہیں جن میں سرخ میرا نام، سنو اور خانہ معصومیت شامل ہیں۔ اورحان پاملک لاہور لٹریچر فیسٹول کے ایک اور سیشن میں شرکت کریں گے۔ اتوار کو سہہ پہر چار بجے اس سیشن میں محسن حامد بھی ان کے ساتھ شریک گفتگو ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG