رسائی کے لنکس

آسکر اکیڈمی میں زیادہ خواتین اور سیاہ فام شامل کیے جائیں گے


آسکر ایوارڈ کی انتظامیہ مستقبل کے لیے کئی بڑی تبدیلیاں کر رہی ہے جن میں بہترین فلم کی نامزدگیوں میں اضافہ، اقلیتوں کی زیادہ نمائندگی اور اکیڈمی کی رکنیت کے لیے معیار پر نظرثانی شامل ہے۔

اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے جمعہ کو اعلان کیا کہ 2022 سے بہترین فلم کے لیے دس نامزدگیاں کی جائیں گی۔ جولائی کے آخر تک اکیڈمی کے رکن بننے کے لیے نئی شرائط طے کی جائیں گی اور اس کے لیے فلمسازوں کی تنظیم پروڈیوسرز گلڈ آف امریکہ کے تعاون سے زیادہ تنوع ممکن بنایا جائے گا۔

ان تبدیلیوں سے 28 فروری 2021 کو لاس اینجلس میں شیڈول 93ویں اکیڈمی ایوارڈز متاثر نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سال کسی تبدیلی کے لیے کافی وقت گزر چکا ہے۔

فلم اکیڈمی ماضی میں کئی بار بہترین فلم کے لیے نامزدگیوں کی تعداد کم زیادہ کرتی رہی ہے۔ 1928 میں آسکرز کے آغاز پر یہ تعداد تین تھی اور اگلے سال پانچ۔ پھر یہ تعداد آٹھ سے بارہ فلموں تک تبدیل کی جاتی رہی۔ 2008 میں پانچ فلمیں نامزد کی گئیں۔ لیکن، 2009 میں انھیں دس کردیا گیا۔ 2011 میں یہ طے کیا گیا کہ نامزدگیاں پانچ سے دس تک کسی بھی تعداد میں کی جاسکتی ہیں۔ گزشتہ سال 9 فلموں کو نامزد کیا گیا تھا۔

اکیڈمی اس بات کے لیے بھی پرعزم ہے کہ وہ اپنے ارکان اور ایوارڈز میں زیادہ تنوع لائے گی۔ اس منصوبے کو اکیڈمی اپرچر 2025 کا نام دیا گیا تھا۔ اس مقصد سے اکیڈمی کی رکنیت کے لیے شرائط و ضوابط پر نظرثانی کی جارہی ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ اس سال مکمل ہوگا جو "بہت زیادہ سفید آسکرز" کا ردعمل ہے۔

امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف جاری تحریک 'بلیک لائیوز میٹڑ' کے تناظر میں فلمی صںعت میں تبدیلی تیز ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

اکیڈمی کے صدر ڈیوڈ روبن کا کہنا ہے کہ تنظیم نے 2020 تک خواتین اور اقلیتی ارکان کی تعداد بڑھانے کے اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ 2015 کے بعد خواتین ارکان کی تعداد 25 سے بڑھ کر 32 فیصد ہوگئی ہے۔ غیر سفید فام ارکان کی تعداد 8 سے دوگنا ہوکر 16 فیصد ہوئی ہے۔

اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈان ہڈسن نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ اگرچہ اکیڈمی نے پیشرفت کی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہر شعبے میں مساوی مواقع یقینی بنانے کے لیے کافی کام کیا جانا باقی ہے۔ اس مسئلے کو تیزی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک ہم اپنے قواعد و ضوابط میں ترمیم اور ان پر نظرثانی کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ تمام آوازوں کو سنا جائے اور اکیڈمی میں شامل کیا جائے۔

روبن نے کہا کہ اکیڈمی کی قیادت اور بورڈ اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ تمام کمیٹیوں، منصوبوں اور تقریبات میں مساوات کو یقینی بنایا جائے۔

اس مقصد سے حال میں ایک شعبہ قائم کیا گیا ہے جو اپرچر 2025 منصوبے کی نگرانی کرے گا۔ اس کی سربراہ اکیڈمی کی چیف آپریٹنگ آفیسر کرسٹائن سمنز ہوں گی۔ اکیڈمی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے ارکان میں تنوع بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی گی۔ نئے ارکان کا اعلان جولائی میں کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG