رسائی کے لنکس

logo-print

سنگت: پاکستانی اور امریکی گلوکاروں، نغمہ نگاروں اور موسیقاروں کا بینڈ


سنگت میوزک گروپ

کراچی میں قائم ملک بھر کی اپنی نوعیت کی واحد میوزک اکیڈمی، نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس یا نیپاایک عرصے سے پاکستانی فنکاروں کو موسیقی اور پرفارمنگ آرٹس کی جدید خطوط پر تربیت دے رہی ہے اور موسیقی کے غیر ملکی تعلیمی اداروں کے اشتراک سے موسیقی کے شعبے میں جدت پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ایسی ہی کوشش امریکی اور پاکستانی گلوکاروں، نغمہ نگاروں اور موسیقاروں پر مشتمل ایک بینڈ سنگت کی شکل میں سامنے آئی ہے جو امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام قائم ہوا۔

گزشتہ دنوں نیپا کے ایک گریجو ایٹ اور اس کی فیکلٹی کے ایک سابق رکن، اور اس بینڈ کے ایک لیڈ سنگر اور کمپوزر نادر عباس ہاشمی نے وائس اف امریکہ کے پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں سنگت کے بارے میں گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اکیڈمی نیپا اور یونیورسٹی آف ٹیکساس کے میوزک کے شعبے کے درمیان جو بٹلر اسکول آف میوزک کہلاتا ہے، 2014 میں ایک پارٹنرشپ شروع ہوئی جس کے تحت بٹلر اسکول آف میوزک کے اساتذہ نے نیپا کے طالب علموں کو آن لائن میوزک ک سکھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان آکر بھی میوزک ورکشاپس میں ٹریننگ دی۔ تین سال کی اس پارٹنرشپ کے اختتام پر دونوں اداروں نے اس تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے اداروں کے اساتذہ اور طالب علموں پر مشتمل ایک بارہ رکنی میوزک بینڈ تشکیل دیا جسے سنگت کا نام دیا گیا۔

نادر عباس ہاشمی نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام قائم اس بینڈ نے جو بٹلر اسکول آف میوزک اور نیپا کے چھ چھ طالب علموں اور اساتذہ پر مشتمل تھا، بہت سے کلاسیکی فیوژنز ریکارڈ کرائے اور بہت سا اوریجنل میوزک کمپوز کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نیپا کے اساتذہ کے ایک گروپ کو 2015 میں امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام ایک کلچرل ایکس چینج پروگرام کے تحت یونیورسٹی آف ٹیکساس میں میوزک کا چھ ماہ کا ایک تربیتی کورس میں شرکت کا موقع ملا، جس سے نہ صرف ان کے علم اور تجربے میں بہت اضافہ ہوا بلکہ انہوں نے پاکستان واپس آکر امریکہ میں سیکھے ہوئے موسیقی کے جدید طریقوں اور انداز کو سامنے رکھ کر اکیڈمی کے لیےموسیقی کا ایک نیا نصاب بھی ترتیب دیا، جس کے بعد طالب علموں کو موسیقی کی تربیت کے جدید انداز کے ساتھ اس نصاب کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جب سنگت بینڈ کے امریکی فن کار وں نے پاکستان آکر ان کے ساتھ مل کر متعدد تقربیات میں پرفارم کیا، خاص طور پر جب ان کے ساتھ مل کر اردو زبان میں قوالی پیش کی تو پاکستانی شائقین انہیں بہت سراہا۔

سنگت کے لیڈ سنگر اور کمپوزر نادر عباس ہاشمی نے بتایا کہ ان کا بینڈ موسیقی کے ذریعے امن پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔

نادر عباس ہاشمی نے جو نغمہ نگار بھی ہیں مزید بتایا کہ انہیں جنوبی کوریا کے ایک کلچرل ایکس چینج پروگرام کے تحت بھی موسیقی کے ایک چھ ماہ کے تربیتی کورس میں شرکت کا موقع ملا، جس دوران انہوں نے وہاں کی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے لکھے ہوئے ایک نغمے کو جنوبی کوریا کی زبان میں ترجمہ کروا کر اسے کمپوز بھی کیا اور گایا بھی ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG