رسائی کے لنکس

logo-print

بغیر باہمی بات چیت، کرتار پور بارڈر کھولنے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی: پاکستان


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت سے بات چیت کے بغیر کرتار پور بارڈر کھولنے سمیت کسی معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے یہ بات جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستان اور بھارت کے تعلقات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’’بھارت نے خود پاکستان سے بات چیت کرنے پر اتفاق کیا تھا‘‘۔ تاہم، ان کے بقول، ’’بعد میں وہ خود ہی اپنی بات سے ہٹ گئے تھے‘‘۔

محمد فیصل نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے اپنے پاکستانی ہم منصب کے نام تحریر کردہ خط کے جواب میں پاکستان نے بھارت کو بات چیت کی پیش کش کی تھی، جسے قبول کرنے کے بعد وہ بات چیت سے انکاری ہو گئے۔

تاہم، ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ ’’پاکستان پُرامن ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور اسے توقع ہے کہ بھارت بھی اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن رویے پر کاربند ہوگا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام معاملات پر بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ"کرتار پور بارڈر پر راستہ کھولنے کے معاملے پر گفت و شنید اسی وقت ہوگی جب دونوں ملکوں کے مابین کوئی بات چیت ہوگی‘‘۔

بقول اُن کے، "جب بات چیت نہیں ہوگی تو کسی بھی موضوع پر پر آگے چلنا مشکل ہے۔"

واضح رہے کہ قبل ازیں پاکستان متعدد بار بھارتی یاتریوں کو گورو دوارہ دربار صاحب تک رسائی کے لئے کرتار پور سرحد کھولنے پر رضامندی کا اظہار کر چکا ہے۔

گزشتہ ماہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں پاکستان سے مثبت بات چیت کا عندیہ دیا جس کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یہ ملاقات ہونا تھی۔

تاہم، بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سرحدی محافظ کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے بھارت نے یہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کے اپنے امریکی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ امریکہ عہدیداروں کے ساتھ واشنگٹن میں رواں ہفتے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ اور ان کے بقول، ایک ماہ کے دوران دوسری بار امریکی حکام سے رابطے ہوئے ہیں۔ جن ملاقاتوں کا مقصد ’’پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلافات کو کم کرنا اور باہمی طور پر مشترکہ مقاصد کا تعین کرنا ہے۔"

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک اعلیٰ وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو ایک نئی جہت پر استوار کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

شکیل آفریدی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ شکیل آفریدی سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔

جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وائس آف امریکہ کی طرف سے دورہٴ زلمے خلیل سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کو مشترکہ کوششوں ہی سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم تو چاہتے ہیں کہ بات چیت ہو امریکہ براہ راست بھی بات چیت کرے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا مشترکہ ذمہ داری ہے کوئی ایک ملک یہ (کام) نہیں کرسکتا، اور پاکستان امن مذاکرت کے لیے ایک موافق ماحول پیدا کرنے کے لیے تمام فریق کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔”

افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے سلسلے میں رواں ہفتے سے افغانستان کے لیےامریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد، پاکستان اور بعض عرب خلیجی ملکوں کا دورہ کریں گے۔ امریکی محکمہٴ خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق سفیر زلمے خلیل زاد ایک وفد کے ہمراہ 4 سے 14 اکتور کے دوران افغانستان اور پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور قطر بھی جائیں گے۔

محکمہ خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران وفد میں امریکی حکومت کے دیگر عہدیدار بھی شامل ہوں گے اور اس دورے کا مقصد طالبان کو مذکرات کی میز پر لانے کی امریکی کوششوں کو مربوط کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG