رسائی کے لنکس

logo-print

میڈیا کو شدید سینسرشپ کا سامنا ہے: طلعت حسین


میڈیا پر سینسرشپ کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاج کے موقع پر کراچی میں صحافیوں کا مظاہرہ۔ 16 جولائی 2019

’اپنی بات تو کہہ لی آپ نے، لیکن گھر کیسے چلے گا؟ اس وقت کتنے ہی ایسے صحافی ہیں جو اپنی ملازمتوں سے فارغ ہو چکے ہیں اور اپنے گھر کا سامان بیچ کر گزارہ کر رہے ہیں۔ میں خود ان صحافیوں میں شامل ہوں۔‘

صحافی اور کالم نگار ماروی سرمد نے پچھلے چند ماہ میں بڑھتی ہوئی سینسرشپ اور بے روزگار ہونے والے صحافیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا۔

بدلتے زمانے کے ساتھ بہت سی نئی ایجادات اور رجحانات معاشرے میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ لیکن، غیر روایتی یا متبادل میڈیا پلیٹ فارمز اپنانے کے بارے میں زیادہ تر صحافیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ میں اس تیزی سے ابھرتے رجحان کی وجہ روایتی میڈیا میں بڑھتی ہوئی سینسرشپ ہے۔

سینسرشپ کا سلسلہ 2018 کے جنرل الیکشنز سے شروع ہو گیا تھا، ماروی سرمد

ماروی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بڑھتے ہوئے انحصار کو اپنی کم و بیش ایک مجبوری سمجھتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ متبادل میڈیم استعمال کرنے کے علاوہ صحافیوں کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سینسرشپ بڑھنے کا سلسلہ الیکشن 2018 سے بھی پہلے شروع ہو گیا تھا اور ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ لکھنے والے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے جن سے صحافی منسلک ہو۔

بقول ان کے، ’’میرے لکھے ہوئے کالم سے، میرے لکھنے سے زیادہ اثر اس ٹوئٹ کا ہوتا ہے جو ہم کرتے ہیں اور میرے میڈیا ہاؤس کے ذریعے بھی ہو گا ‘‘۔

وہ کہتی ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران کئی صحافیوں کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ اس لیے بند کرنا پڑے کیونکہ ان کے میڈیا ہاؤسز کو سخت دباؤ کا سامنا تھا۔

لیکن، ’’اس ٹوئٹ کی اہمیت یہ کہ جو ہمیں مانیٹر کر رہے ہیں ان تک کوئی بات پہنچانا ہو، کوئی تنقید ہو، وہ براہ راست ان تک پہنچتی ہے‘‘، ماروی نے کہا۔

یوٹیوب چینلز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کوئی نامور صحافی ایک یوٹیوب یا فیس بک چینل کھولتا ہے تو اس کا اتنا فائدہ ایک عام صحافی کو بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اس چھوٹی سی پروڈکشن ٹیم کا حصہ ضرور بن سکتا ہے۔ ورنہ ایسے پلیٹ فارمز چلانا بھی ہر آدمی کا کام نہیں۔

میڈیا کو ایک ڈیپ سینسرشپ کا سامنا ہے: طلعت حسین

یوٹیوب اور فیس بک پر پچھلے چند ماہ سے نظر آنے والے چینلز میں سے ایک نام ٹی وی کے نامور صحافی طلعت حسین کا بھی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں قسم کی سینسرشپ اپنے عروج پر ہے اور اس کی زد میں سب سے زیادہ وہ صحافی آتے ہیں جو عوام کے ایشوز اٹھانے کے عادی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مین سٹریم میڈیا اور وہاں کام کرنے والے صحافیوں کو بہت سے پریشرز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں میں غیر روایتی میڈیا پر جا کر اپنی بات کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے؛ ’’ایک ڈیپ سینسرشپ کا سامنا ہے‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک آدھ انٹرویو نشر نہ ہو سکے تو بات سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن، دن بھر نیوز رومز میں کام کرنے والے صحافیوں کو ایک خاص ذہنی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔

ملک میں رائج میڈیا پالیسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافی جو ایک ’برینڈ‘ بن چکے ہیں۔ ان سے عوام بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ عوامی ایشوز پر بات کریں گے نہ کہ ان مسائل پر جن کو میڈیا ہاؤسز اپنی اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق سامنے لانا چاہتے ہیں۔

کیا متبادل پلیٹ فارم ہر صحافی کے لیے نہیں؟

"اس قسم کی پالیسز جمہوری اقدار کے بالکل خلاف ہیں'‘، طلعت حسین نے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی تنگی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور نوکرِیوں سے فراغت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی مسائل نے پہلے ہی صحافیوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔ ایسے میں اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے کوئی نیا پلیٹ فارم ہی تلاش کیا جائے۔

لیکن، سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی بھی صحافی ان متبادل پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے اپنا نام بنا سکتا ہے؟ طلعت حسین کا خیال ہے کہ ایسے کسی چینل کو چلانے یا ٹوئٹرز اور فیس بک کو لوگوں تک پہنچنے کا ذریعہ صرف وہی صحافی کامیابی سے بنا سکتے ہیں جو ایک 'برینڈ' بن چکے ہیں۔

طلعت حسین نے بتایا کہ دنیا بھر میں بہت سی آن لائن ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز معقول رقم کما لیتے ہیں۔ لیکن، پاکستان میں بہت سی وجوہات کی بنا پر، جن میں فیس بک کا پاکستانی چینلز کو اشتہارات نہ دینا اور یوٹیوب پر دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی چینلز کے لیے اشتہارات کا کم ٹیرف ان مسائل میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے غیر روایتی میڈیا کو مستقل ملازمت کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وہ یہ سمجھتے ہیں کہ متبادل میڈیا کے استعمال کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کی فالوونگ کم ہو یا زیادہ، اس کے اعداد و شمار کو کسی بھی ناجائز طریقے سے بدلا نہیں جا سکتا۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل سے دوچار صحافیوں کی بات کرتے ہوئے طلعت حسین کا کہنا تھا کہ متبادل میڈیا پر پیسے نہ ملیں۔ لیکن، کم از کم صحافی اپنے دل کی بات تو کر سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ آنے والے چند سالوں میں اںٹرنیٹ کا استعمال صحافت کے بہت سے پہلووں کو یکسر بدل دے گا۔

مخصوص ایجنڈے کے صحافی ملک کو بدنام کر رہے ہیں: فردوس عاشق اعوان

اس سب صورت حال کے بارے میں حکومت کا موقف بالکل مختلف اور واضح ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ صحافیوں میں حکومت کی جانب سے سینسرشپ بڑھنے کے تاثر میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وی او اے کو بتایا کہ حکومت صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آج صحافی جتنے آزاد اور محفوظ ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ صرف وہی افراد حکومتی پالیسی سے نالاں ہیں، جو ان کے بقول، ’’کسی خاص ایجنڈے کے علمبردار ہیں اور ملک کے لیے بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔

صحافی کہتے ہیں کہ وہ اپنی آواز پہنچانے کے لیے ہر میڈیم استعال کریں گے۔ وہ کس حد تک موثر ثابت ہو گا یہ تو نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن، اتنا ضرور ہے کہ متبادل میڈیا پر منتقل ہونے والے صحافیوں کی آن لائن فالونگ دن بدن بڑھ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG