رسائی کے لنکس

بلوچستان: بغیر دستاویزات پاکستان میں داخل ہونے والے 700 افغان پناہ گزین بے دخل


طالبان کے افغانستان پر قابض ہونے کے بعد سرحد کے مختلف مقامات سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بغیر دستاویزات کے آنے والے افراد کو واپس ان کے ملک بھیج دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے سیکیورٹی اداروں نے لگ بھگ 700 افغان پناہ گزینوں کو حراست میں لے کر پاکستان سے بے دخل کر دیا ہے۔ یہ افراد طالبان کے افغانستان پر قابض ہونے کے بعد سرحد کے مختلف مقامات سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر پاکستان آنے والے افراد کو پیر اور منگل کو حراست میں کر چمن سرحد سے افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔

کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغان پناہ گزینوں میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ یہ افراد کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی، کچلاک اور پشین میں موجود تھے۔ ان کے پاس کسی بھی قسم کی سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں جس کہ وجہ سے انہیں واپس افغانستان بھیجا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع پشین، خضدار، لسبیلہ اور دیگر علاقوں سے بھی سفری دستاویزات کے بغیر موجود افغان شہریوں کو پاکستان سے بے دخل کیا گیا ہے۔

ضلعی افسر کے مطابق بعض افغان شہریوں کو پاکستان کے شہر کراچی سے بھی حراست میں لیا گیا تھا جنہیں پہلے کوئٹہ پہنچایا گیا اور یہاں سے چمن کی سرحد پر افغانستان کے حوالے کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پاکستان سے بے دخل کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان کے علاقوں قندھار، قندوز اور کابل سے ہے۔

دو روز قبل تک کوئٹہ کے علاقے بلیلی کے قریب بائی پاس پر 50 کے قریب خاندانوں کے لگ بھگ 300 پناہ گزینوں کے خیمہ بستی کے قیام کی اطلاعات سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تھیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ افغان خاندان قندوز سے پاکستان آئے تھے۔ ان کے پاس اشیائے خورو نوش بھی موجود نہیں تھا۔

اس سلسلے میں جب وائس آف امریکہ کے کوئٹہ کے نمائندے نے منگل کو بلیلی روڈ پر افغان پناہ گزینوں کے اس مبینہ عارضی کیمپ کے مقام پر پہنچے تو خیمہ بستی ختم ہو چکی تھی۔

اس کے قریب ہی واقع ایک پیڑول پمپ پر کام کرنے والے ملازم محمد یعقوب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ منگل کی صبح سیکیورٹی فورسز نے کے اہلکار اس علاقے میں آئے تھے اور انہوں نے افغان پناہ گزینوں کے کیمپ ختم کرا دیا تھا اور ان افراد کو سیکیورٹی اہلکار ساتھ لے گئے تھے۔

محمد یعقوب نے مزید کہا کہ افغان پناہ گزین چار روز تک عارضی خیمہ بستی میں موجود رہے۔ وہ بہت مشکل حالات میں تھے۔ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں تھا۔ بعد میں مقامی لوگ اور کچھ فلاحی اداروں نے ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔

ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ دار خان مندوخیل نے گزشتہ ماہ ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کے لیے ضروری ہدایات درج تھیں۔

اس ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ وہ افغان شہری جو افغانستان سے باب دوستی کے راستے افغان دستاویزات، جس کو تزکیرہ بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے پاکستان آتے ہیں انہیں صرف چمن اور قلعہ عبداللہ کی حدود تک آنے کی اجازت ہے۔

افغان شہریوں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے کوئٹہ جانے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چمن سرحد سے یومیہ 15 ہزار افراد کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان کے علاقے چمن میں پاکستان افغانستان کی سرحد پر بابِ دوستی پر دوسری جانب اسپن بولدک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بھی دونوں ممالک سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

بلوچستان میں حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ موقع سے فائدہ اُٹھا کر غیر قانونی طور پر بھی لوگ پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اس صورتِ حال پر حکام کا کہنا ہے کہ چمن میں سرحد پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور قانونی دستاویزات کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ اب وہ دور نہیں ہے جب 40 سال پہلے کی طرح بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان میں داخل ہوں۔ اب سرحد پر باڑ لگائی گئی ہے اور اب یہ ایک محفوظ سرحد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ لوگوں کو سائنٹفک مشینیوں سے اسکین کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG