رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کونسل میں کشمیر سے متعلق بریفنگ پر پاکستان کا خیر مقدم


فائل فوٹو

پاکستان نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران دوسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر پر بریفنگ کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاملہ ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے یہ بات جمعرات کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کو جمّوں و کشمیر کی حالیہ صورتِ حال کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ جمّوں و کشمیر کا تنازع گزشتہ سات دہائیوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران دوسری بار سلامتی کونسل کے اراکین کو اس معاملے پر بریفنگ دی گئی ہے۔

ان کے بقول سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین بشمول 5 مستقل اراکین اس بریفنگ میں شریک تھے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سلامتی کونسل کے کئی ممالک بشمول مستقل رکن ممالک نے بھارت کے زیرِ انتطام جمّوں و کشمیر کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی (فائل فوٹو)
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی (فائل فوٹو)

عائشہ فاروقی نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہوا لیکن اس میں جامع بحث ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہے۔ چونکہ یہ بند کمرہ اجلاس تھا اس لیے وہ اجلاس کی کارروائی کی مکمل تفصیل سے آگاہ نہیں ہیں۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جمّوں و کشمیر کی صورتِ حال کے دوبارہ جائزے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جمّوں و کشمیر ایک عالمی تنازع کی حیثیت میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کونسل کی جانب سے اس پر غور موجودہ صورتِ حال کی نزاکت کے اعتراف و احساس کا مظہر ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جمّوں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو نئی دہلی کی جانب سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد کی صورتِ حال پر پاکستان کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان اس معاملے کو عالمی فورم بھی اٹھاتا رہا ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے متعدد خطوط میں بھارتی اقدامات کی وجہ سے خطے کو لاحق خطرات سے آگاہ کر چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ (فائل فوٹو)
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ (فائل فوٹو)

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے بارے میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر، لائن آف کنٹرول پر ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کے واقعات اور پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات پر بھی بات کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ کا دورہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود کے دورۂ ایران اور سعودی عرب کا تسلسل ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

بیرون ممالک میں 10 ہزار سے زائد پاکستانی قید

دفتر خارجہ کی ترجمان نے بریفنگ کے بعد سوالات کا جواب دیتے ہوئے بیرونِ ممالک میں قید پاکستانیوں کی تعداد کے حوالے سے بتایا کہ دنیا کے 28 ممالک میں لگ بھگ 10 ہزار پاکستانی قید ہیں۔

ترجمان کے بقول بیرونِ ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں میں سے نصف کو مقامی قواعد کے تحت امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، انسانی اسمگلنگ اور بعض دیگر جرائم کے تحت سزا سنائی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی سفارتی رسائی کے تحت 13 ہزار ملاقاتوں کا اہتمام کرا چکی ہے۔

ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی کوششوں سے گزشتہ ایک سال کے دوران 4637 پاکستانیوں کو رہائی ملی ہے۔

ان کے بقول سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG