رسائی کے لنکس

تین برسوں میں 3300 سے زائد انسانی اسمگلر گرفتار


وزیرِ داخلہ نے جمعے کو سینیٹ میں ایک تحریری بیان میں کہا کہ ان مبینہ انسانی اسمگلروں کو 2015ء سے 2017ء کے درمیان گرفتار کیا گیا۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں ملک میں 3388 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔

انسانی اسمگلروں کے خلاف اقدامات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے جمعے کو سینیٹ میں ایک تحریری بیان میں کہا کہ ان مبینہ انسانی اسمگلروں کو 2015ء سے 2017ء کے درمیان گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں ملوث سب سے زیادہ گرفتاریاں پنجاب زون جب کہ اس کے بعد اسلام آباد سے عمل میں لائی گئیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی طور پر دیگر ممالک جانے والے پاکستانیوں میں سے 90838 کو گزشتہ تین برسوں میں پاکستان واپس بھیجا گیا ہے۔

جب کہ گزشتہ پانچ سال میں جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک جانے کی کوشش پر 1761 افراد کو ملک کے مختلف ہوائی اڈوں پر گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گزشتہ دسمبر میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صرف 2017ء میں 6700 سے زائد پاکستانی ایران کے راستے یورپ گئے تھے۔

پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا معاملہ حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ڈوبنے والی ایک کشتی میں پاکستانی بھی سوار تھے جن میں سے 16 کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

ان میں سے 11 پاکستانیوں کی میتیں رواں ہفتے واپس وطن لائی گئی تھیں۔

جن افراد کی میتیں واپس لائی گئیں اُن میں لقمان علی بھی شامل تھے جن کے والد عبدالغفور نے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ انسانی اسمگلروں اور غیر قانونی طریقے سے سفر کرنے کے نقصانات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

دسمبر 2017ء میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے تربت کے ایک دشوار گزار پہاڑی سلسلے سے 20 افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے ان تمام افراد کا تعلق صوبۂ پنجاب سے تھا جو انسانی اسمگلروں کے ذریعے بلوچستان سے ہوتے ہوئے ایران اور پھر وہاں سے یورپ جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن یہ افراد بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح تنظیم کے شدت پسندوں کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

اس واقعے کا پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے بھی نوٹس لیا تھا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی اسمگلروں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا جس میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

لیبیا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی تارکینِ وطن سے بھری کشتی میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھی ’ایف آئی اے‘ نے انسانی اسمگلروں کے خلاف نیا کریک ڈاؤن شروع کیا۔

واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری بہتر روزگار کے لیے انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کے خلاف سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے واقعے کے بعد اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منظم، طویل المدت اور موثر حکمت عملی کا فقدان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG