رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹیبلشمنٹ میڈیا کو اپنے ایجنڈے پر چلانا چاہتی ہے، احمد نورانی


وائس آف امریکہ نے گزشتہ سال پاکستان میں آزادی صحافت کے موضوع پر انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ملک میں سینسرشپ جیسی صورت حال ہے جب کہ کئی تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس موقع پر سیاست اور معیشت کے ساتھ صحافت کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

وائس آف امریکہ ایک بار پھر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور حکومت کے نمائندوں سے میڈیا کی صورت حال پر انٹرویوز کی سیریز شروع کر رہا ہے۔ پہلا انٹرویو سینئر انویسٹی گیٹو رپورٹر احمد نورانی کا کیا گیا ہے۔ جمعرات کو جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا انٹرویو پیش کیا جائے گا۔

میڈیا سنسرشپ پر احمد نورانی کا انٹرویو
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:23 0:00

سوال: پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ نواز شریف دور کے مقابلے میں پاکستان کا میڈیا آج کہاں کھڑا ہے؟

احمد نورانی: میرے خیال میں میڈیا کی آزادی کا انحصار حکومتوں پر نہیں ہے۔ نواز شریف گئے تو خاقان عباسی آئے۔ عباسی گئے تو ناصر الملک آئے۔ وہ گئے تو عمران خان آ گئے۔ کسی کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑا۔ گزشتہ تین چار سال سے میڈیا کو دباؤ، جبر بلکہ حملے کی سی صورت حال درپیش ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے مفادات کی خاطر میڈیا کو اپنے ایجنڈے پر چلانا چاہتی ہے۔ اس کے لوگ اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ پاکستان کی بہتری کے لیے ہے۔ میڈیا کے جو حصے یا لوگ ان کے کہنے کے مطابق نہیں چلتے، ان کو پہلے وہ پیار سے سمجھاتے ہیں۔ پھر دھمکیاں دیتے ہیں اور اس کے بعد حملے کرتے ہیں۔ حملے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ صحافی پر تشدد بھی کیا جاتا ہے اور مالی طور پر بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

کچھ عرصے سے صحافیوں کی بجائے ان کے مالکان اور اداروں کو دباؤ میں لینے کا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں ناپسندیدہ لوگ ہیں، انھیں ملازمت سے نکال دیا جائے۔

میڈیا کے کتنے ہی اہم نام ہیں جو اپنے پرانے اداروں سے نکل چکے ہیں اور کوئی نیا ادارہ انھیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ان اداروں کا بھی قصور نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کس قدر مضبوط ہے۔ وہ آپ کی جان کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مجبور کر کے آپ کے کاروبار کے تمام راستے بھی بند کردے گی۔

اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی نواز شریف دور میں بھی یہی تھی اور موجودہ دور میں اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ کبھی صورت حال بدتر ہو جاتی ہے، کبھی تھوڑی سی نرمی ہو جاتی ہے۔ لیکن وہی لوگ میڈیا کو کنٹرول کر رہے ہیں جو نواز شریف دور میں کر رہے تھے۔ میڈیا ادارے بھی ان ہی کے خوف کا شکار ہیں اور ورکنگ جرنلٹس بھی ان ہی کے ڈر میں مبتلا ہیں۔

سوال: پی ٹی آئی حکومت میں شفقت محمود، فواد چودھری اور فردوس عاشق اعوان جیسے رہنماؤں کا ماضی میں میڈیا سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ میڈیا پر دباؤ ڈال رہی ہے تو یہ رہنما اسے روکنے کے لیے کردار ادا کیوں نہیں کر رہے؟

احمد نورانی: میں نواز شریف سے گلہ کر سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنے دور میں اسٹینڈ نہ لے کر غلط کیا۔ ان کے دور میں نیوز چینل بند ہو رہے تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے کیبل سے چینل غائب ہو جاتے تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے ایڈورٹائزرز سے کہا جاتا تھا کہ چینلوں کو اشتہار نہ دیے جائیں۔ یہ سب پچھلے دور میں بھی ہو رہا تھا۔

لوگ موجودہ حکومت کو سلیکٹڈ کہتے ہیں۔ لیکن نواز شریف تو الیکٹڈ تھے۔ وہ الیکٹڈ ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر سکے۔ انہیں یا ان کے لوگوں کو جو کچھ کرنا چاہیے تھا، وہ انہوں نے نہیں کیا۔ چودھری نثار ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ میڈیا کے خلاف بولتے تھے۔ انہوں نے اس وقت چودھری نثار کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ موجودہ حکومت کی کیا بات کریں۔ الیکشن کے دن جو کچھ ہوا، زور زبردستی، دھونس دھاندلی کر کے جن لوگوں کو لایا گیا، وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ یہ وہی کرتے ہیں، جو انہیں کہا جاتا ہے۔

سوال: ماضی میں صحافتی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کے ادارے مل کر جبر کا مقابلہ کرتے تھے۔ لیکن اب کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

احمد نورانی: جس طرح پاکستان کا ہر شعبہ زوال کا شکار ہے، صحافت کے شعبے کا بھی وہی حال ہے۔ ہم صحافیوں نے اس طرح ترقی نہیں کی، جس طرح کرنی چاہیے تھی۔ ہمارے لوگوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ یہ میں نے اپنے شعبے کی خامی کا اعتراف کیا۔ لیکن پاکستان کے حالات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ملک مکمل طور پر سیکورٹی اسٹیٹ بن چکا ہے جس میں آپ کے ہر قول کی، ہر حرکت کی، ہر بات کی نگرانی کی جاتی ہے۔

یہاں ہر اس شخص کا گھیرا تنگ کیا جاتا ہے، جو آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی قسم کا اتحاد کسی سطح پر ممکن نہیں ہونے دیا جاتا۔ یہاں کوئی غلط بات پر آواز اٹھائے تو مسئلہ حل ہونا تو دور کی بات، اس کے اہل خانہ کو، اس کے کاروبار کو، اس کی ملازمت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ فوج کا ادارہ ہر پاکستانی کے لیے محترم ہے۔ لیکن وہ لوگ، جو سیاست میں مداخلت کریں گے، چاہے وہ کسی بھی ادارے کے ہوں، فوج کے ہوں، عدلیہ کے ہوں، تو ان پر تنقید ہو گی اور ہر حال میں ہو گی۔

سوال: پاکستان میں میڈیا کو جو صورت حال درپیش ہے، وہ کب تک بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے؟

احمد نورانی: وجاہت مسعود نے کالم لکھا تھا کہ انتخابات کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، معیشت کے نہیں۔ ان لوگوں نے جو ایڈونچر کیا، اس سے پاکستان کو 60 سے 70 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی۔ پاکستان پٹڑی سے اتر گیا۔ شاید کسی دن ان میں احساس پیدا ہو اور یہ پیچھے ہٹ جائیں۔ ویسے مشکل ہے کیونکہ سیکورٹی اسٹیٹ میں تباہی اور بربادی مکمل ہونے تک پیچھے نہیں ہٹا جاتا۔ لیکن مجھے گمان ہے کہ اگلے چار پانچ ماہ کے بعد تھوڑا سا احساس ہو جائے اور معاملات تبدیلی کی طرف جائیں۔

نوٹ: واضح رہے کہ وفاقی حکومت میڈیا پر دباؤ ڈالنے سے انکار کرتی ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 4 جون 2018 کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاک فوج نے کبھی کسی میڈیا گروپ کو ڈکٹیشن نہیں دی اور نہ کسی صحافی کو فوج کی مرضی کے مطابق خبر لکھنے کے لیے کہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG