رسائی کے لنکس

logo-print

رکاوٹیں توڑنے اور فاصلے مٹانے پاکستان آئی ہوں: نندتا داس


نندیا داس، فائل فوٹو

نو سال کے بعد پاکستان آنے والی نندتا داس ان دنوں سعادت حسن منٹو کی بائیو پک ڈائریکٹ کررہی ہیں اور اپنے اس پراجیکٹ کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔

فلم نگری کہیں کی بھی ہو، مرکزی کرداروں خصوصاً ہیروئن کے لئے خوبصورتی کا کچھ خاص معیار مثلاًگوری رنگت اور دبلا پتلا ہونا طے تھا لیکن بالی وڈ میں سمیتا پاٹل اورشبانہ اعظمی جیسی عام شکل وصورت والی ہیروئنزنے نہ صرف اس ’ ٹیبو ‘ کوتوڑا بلکہ اپنے کام سے ایسا نام کمایا کہ ان کی پہچان سب سے الگ اور خاص بن گئی۔

سمیتا اور شبانہ کی روایت کو کامیابی سے آگے بڑھانے والوں میں نندتا داس کا نام بھی نمایاں ہے۔ تیکھے نین نقش، مخصوص انداز کی رنگت اور بولتی و چمکتی آنکھوں والی نندتا داس جتنی اچھی اداکارہ ہیں اتنی ہی اچھی انسان بھی ہیں کیونکہ وہ انسانوں میں تفریق اور آرٹ وفن کو سرحدوں میں تقسیم کرنے کی قائل نہیں۔

وہ پاکستانی فلم’ رام چند پاکستانی ‘میں بھی کام کر چکی ہیں اور فلم نے اندرون ملک و بیرون ملک خوب نام کمایا تھا۔

فن کو’ سانجھا ‘سمجھنے والی نندتاداس کوحالیہ پاک بھارت کشیدگی بھی پاکستان آنے سے نہ رو ک سکی ۔ انہوں نے کراچی میں ہونے والے’ پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹول ‘میں بھرپور طریقے سے شرکت کی اور میڈیا سے بات چیت میں کھل کر پاکستان سے محبت کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا ’ ماضی میں کئی بار کراچی آتی جاتی رہی ہوں ۔جس وقت’ رام چند پاکستانی‘میں کام کررہی تھی، کراچی اور پاکستان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، کئی بار آنا جاتا ہوا۔ پھر سن 2009میں کارا فلم فیسٹیول میں بھی شرکت کے لئے کراچی آئی تھی ۔

ان کا مسکراتے ہوئے کہنا تھا’ پاکستانی عوام کی محبت اور پیار سے کچھ کو جکڑا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ ۔۔اور اسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ کراچی کے لذیذ کھانے خاص کر جن میں گوشت استعمال ہوا ہو بہت شوق سے کھاتی ہوں۔‘

اپنے دل کی بات بغیر لگی لپٹی رکھے کہہ دینے والی نندتا داس پاکستان اور بھارت کے درمیان مضبوط ثقافتی رشتوں کی بہت بڑی حامی ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی پابندی کی سخت مخالف ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بھی انہوں نے کہا کہ’ میں تمام رکاوٹیں توڑنے اور فاصلے مٹانے پاکستان آئی ہوں۔ ہم پڑوسی ہیں، دوست ہیں۔ ہمارے کھانے، ثقافت اور زبان سبھی کچھ ایک جیسا ہے تو پھر ایک دوسرے کے کام اور ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے پر پابندیاں بے معنی ہیں۔‘

نو سال کے بعد پاکستان آنے والی نندتا داس ان دنوں سعادت حسن منٹو کی بائیو پک ڈائریکٹ کررہی ہیں اور اپنے اس پراجیکٹ کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔

نندتا کا کہنا ہے’ منٹو‘کی پاکستانی اسکرینز پرنمائش ہوتو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ منٹو تو پاکستان اوربھارت دونوں کے ہیں ۔وہ صحیح معنوں میں سچے ساؤتھ ایشین ہیں۔‘

نندتا داس’ فائر‘،’ارتھ‘،عکس،’فراق‘ اور بہت سی دوسری فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ میں شروع سے کمرشل فلموں میں کام کرنے کے قائل نہیں رہی ہمیشہ بامقصد فلموں کو ترجیح دیتی رہی ہوں۔ ‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG