رسائی کے لنکس

logo-print

تدبیر کے لیے وزیر ہی کیوں؟


عمران خان چین کے گریٹ پیپل ہال میں چینی قیادت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ 2 نومبر 2018

نصابی اعتبار سے تھیوری آف سیٹیزن پارٹیسی پیشن سے مراد ایسا عمل ہے جو نجی سطح پر افراد کو حکومتی و ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں حکومتی فنڈنگ کے ساتھ بہت سے تھنک ٹینکس کام کرتے ہیں جو نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں ممکنہ سیاسی و جغرافیائی تبدیلیوں کے امکانات پر اپنی حکومتوں کے لیے پیشگی تجزیے اور لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔

دوسری جانب ترقی پذیرملکوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ کمزوری جمہوری ڈھانچے اور ناتوان سول سوسائٹی کے سبب نجی اداروں اور افراد کی طرف سے انتظامیہ اور اتھارٹی کے لیے ’’اِن پٹ ‘‘ مفقود ہوتی ہے۔ حکمران اور مشینری اگر اہل بھی ہوں تو روزمرہ بنیادوں پر ہنگامی حالات سے نمٹنے میں مصروف رہتے ہیں اور سٹریٹجک پلاننگ کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔

پاکستان میں تدبیر مملکت یا پالیساں بنانے کے عمل میں نجی اداروں اور غیرمعمولی افراد کی انفرادی طور پر شرکت کس سطح پر موجودگی رکھتی ہے اور حکمرانوں اور پالیسی سازی کے درمیان خلیج کو کسی طرح سے پر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں؟

معید یوسف، واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک یونائٹیڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے پاکستان سینٹر کے سربراہ ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتے ہیں کہ ایگزیکٹو اور مشینری عام طور پر فائر فائٹنگ یعنی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں مصروف رہتی ہے اور ان کے پاس مستقبل کے تجزیے اور اس کے لیے تدبیر سازی کا وقت نہیں ہوتا۔

’’ پاکستان میں مسائل زیادہ ہیں۔ تمام بیوروکریسی ہر وقت فائر فائٹنگ میں مصروف رہتی ہے۔ ایک بحران سے دوسرا، دوسرے سے تیسرا۔۔ ان کے پاس سٹریٹجک تھنکنگ کا ٹائم ہی نہیں ہے۔‘

دردانہ نجم صحافی ہیں۔ وہ مختلف انگریزی اخبارات اور تھنک ٹینکس کے لیے لکھتی رہتی ہیں۔ وی او اے کے ساتھ گفتگو میں کہتی ہیں کہ مغرب میں تھنک ٹینکس، جو زیادہ تر حکومت فنڈنگ پر چلتے ہیں، اپنے منصوبہ سازوں کو رپورٹوں اور تجزیوں کی صورت ان پٹ دیتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں بھی تھنک ٹینکس تو بن گئے ہیں لیکن تحقیق کی کمی واضح محسوس ہوتی ہے۔

’’ پالیسی بنانے کے بہت سے محور ہیں۔ ان میں میڈیا اور تھنک ٹینک بھی اہم ہیں۔ وہ ڈییبٹ (مباحثہ) شروع کراتے ہیں، اتفاق رائے بنتا ہے تو اس پر پالیسیاں بنتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں پاکستان میں تھنک ٹینکس بھی بہت بن گئے ہیں، میڈیا بھی موجود ہے۔ جس چیز کی دونوں جگہ کمی ہے وہ ہے تحقیق۔ ہم بحث کو تکرار میں بدل دیتے ہیں۔ ڈیبیٹ اور ڈائیلاگ کا کلچر ختم ہو گیا ہے۔ تحقیق اول تو ہو نہیں رہی اور اگر ہو بھی رہی ہے تو مسائل کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا اس بارے میں ہمارے رویوں کا عکس ہے‘‘

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان پر ان دنوں اس اعتبار سے سخت تنقید ہو رہی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی تدبیر ہے اور نہ ٹیم۔ ان کے نقاد کہہ رہے ہیں کہ 23 سال سے سیاست کرنے والی پارٹی کے پاس مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے منصوبے پہلے سے موجود ہونا چاہیئں تھے۔ لیکن حکومتی نمائندے یہ باور کراتے نظر آتے ہیں کہ نئی حکومت نے نظام میں وسیع تر تبدیلیوں اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلیں قائم کر دی ہیں۔

کیا یہ ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلز سٹریٹجک پلاننگ میں خلیج کم کر سکتی ہیں، معید یوسف اس کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔

’’ امریکہ جیسے ملک میں جہاں بیوریوکریسی کی استعدادکار (باقی دنیا کی نسبت) سب سے زیادہ ہے، وہاں بھی ریوالونگ ڈور تصور موجود ہے۔۔ مطلب، آپ باہر سے ماہرین کو حکومت میں لے کر آئیں، دو تین سال ان کی خدمات سے استفادہ کریں۔ وہ آپ کو جدید تحقیق کے مطابق خدمات فراہم کریں گے۔ وہ اپنا تجزیہ دیں گے۔ سسٹم کو ٹھیک کریں گے اور گھر چلے جائیں گے۔ پاکستان میں چونکہ اس طرح کا سسٹم نہیں ہے، اس لیے جو مشاورتی کونسلز یا ٹاسک فورسز کی بات ہو رہی ہے میرے نزدیک یہ سٹاپ گیپ ہیں۔ یہ ریوالونگ ڈور کا متبادل نہیں، لیکن دس بارہ نمایاں لوگ جو ہر ٹاسک فورس میں ہیں، اگر یہ اپنا کام کریں جیسے سوچا گیا ہے تو کسی حد تک یہ پالیسی ان پٹ کے خلیج کو پورا کر سکتی ہے۔‘‘

حکومت کے نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاورتی کونسلز محض خانہ پری ہیں۔ وزرا اور عمال ان کونسلز کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن، پاکستان کے ممتاز ماہراقتصادیات ہیں۔ وہ اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اس وقت حکومت کی طرف سے اقتصادی مشاورتی کونسل کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سنا جا رہا ہے۔

’’ تنقید برائے تنقید ہمارا کلچر بن گیا ہے۔ ہم جو مشورہ حکومت کو دے رہے ہیں، اس پر عمل بھی ہوتا ہے۔ ہم ریفارمز ایجنڈا بنانے میں بھی کچھ حد تک شامل ہیں۔‘‘

ڈاکٹراشفاق کہتے ہیں کہ حکومت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ترجمان ٹھیک نہیں ہیں۔ اگر دو سے تین اچھے ترجمان ہو جائیں جو عوام کو بتائیں کہ ہو کیا رہا ہے تو میڈیا پر جو خلیج آپ کو نظر آتی ہے، یہ نہیں ہو گا۔‘‘

تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ماہرین کی منصوبہ سازی میں شرکت سے اوپر بیٹھے لوگ خود کو غیرمحفوظ ضرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

شمع جونیجو لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اداروں کی حرکیات پر ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف تھنک ٹینکس بلکہ افراد بھی پالیسی سازی میں اہم ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں حکمران اس ضروری ان پٹ کو بھی ذاتی پسند نا پسند کی بھیٹ چڑھا دیتے ہیں۔

’’ ہمارے جیسے لوگوں کا پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بننا مشکل ہے۔ زلفی بخاری جیسے لوگ اچانک سامنے آ جائیں گے، بھلے کسی کی بھی حکومت ہو۔ جب تک ہم پارٹیوں کے جھنڈے نہیں اٹھائیں گے، ان کے نعرے نہیں لگائیں گے، کوئی بھی حکومت ان کو پوچھے گی بھی نہیں۔‘‘

ڈاکٹر عبدالجبار شعبہ صحافت اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سٹریٹجک تھنکنگ کے فقدان کی ایک وجہ سیاسی حکومتوں کا باختیار نہ ہونا اور مقتدر اداروں کا سویلین اداروں کو مضبوط نہ ہونے دینا ہے۔

معید یوسف اور ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلز کافی حد تک پبلک پارٹی سیپیشن کی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں لیکن اس عمل کو زیادہ مربوط اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG