رسائی کے لنکس

غربت کے خاتمے کے قومی پروگرام کے سربراہ، ظفر الحسن نے ایوانِ بالا کی ایک قائمہ کمیٹی میں تازہ اعداد و شمار پیش کیے، جن کے مطابق، قبائلی علاقوں میں غربت کی شرح 73.7 فیصد، بلوچستان میں 71.2 فیصد، خیبرپختونخواہ میں 49.2 اور سندھ میں یہ شرح 43.1 فیصد ہے

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے اور قدرتی وسائل سے مالا مال جنوب مغربی صوبہٴ بلوچستان میں غربت کی شرح ملک کے دیگر حصوں سے کہیں زیادہ ہے اور قانون سازوں کی طرف سے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وسائل کی تقسیم پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے معذوروں، دہشت گردی سے متاثرہ، بیواؤں اور خواجہ سراؤں سمیت دیگر پسماندہ افراد کو ترحیجات میں شامل کیا جائے۔

غربت کے خاتمے کے قومی پروگرام کے سربراہ، ظفر الحسن نے ایوانِ بالا کی ایک قائمہ کمیٹی میں تازہ اعداد و شمار پیش کیے، جن کے مطابق، قبائلی علاقوں میں غربت کی شرح 73.7 فیصد، بلوچستان میں 71.2 فیصد، خیبرپختونخواہ میں 49.2 اور سندھ میں یہ شرح 43.1 فیصد ہے۔

ملک کے گنجان ترین صوبہٴ پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد بتائی گئی۔

قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ میں کئی ایک علاقے ایسے بھی ہیں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح انتہائی بلند ہے؛ اور اس بابت استفسار پر ظفر الحسن کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ غالباً سلامتی کے خدشات کے باعث ان علاقوں میں سرمایہ کاری کا نہ ہونا ہے۔

بلوچستان رقبے اور پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے ہیں اور چھوٹوں صوبوں کی طرف سے حکومت پر وسائل کی غیرمنصافانہ تقسیم کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ حکومت کی تمام توجہ پنجاب، خصوصاً وسطی پنجاب پر مرکوز ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جب کہ اس کے قائدین کا تعلق لاہور سے ہے۔

تاہم، حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وفاق اپنے طور پر آئین کے مطابق مالی وسائل تقسیم کر رہا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کے علاوہ پسماندہ اور غیر مراعات یافتہ طبقے کی فلاح و بہبود کے پروگراموں کے لیے بھی وسائل کو بڑھایا گیا ہے۔

ماہر اقتصادیات، قیصر بنگالی کا بھی خیال یہی ہے کہ ملک میں مالی عدم مساوات کا پہلو موجود ہے جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

بقول اُن کے،"یہ حقیقت ہے کہ ناہمواری بہت بڑھ گئی ہے۔ غربت بھی بڑھ گئی اور بے روزگاری میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جو پسماندہ ہیں۔ طاقت کا توازن جیسا ہوگا وسائل کا رخ بھی اسی طرح ہوگا۔"

حکام نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے ان پسماندہ علاقوں کے لیے علیحدہ سے فنڈز مختص کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG