رسائی کے لنکس

logo-print

پی آئی اے نے 23 پروازوں کے ذریعے 7700 برطانوی شہریوں کو برطانیہ پہنچایا ہے: شاہ محمود


فائل

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی 'پی آئی اے' کی 23 پروازوں کے ذریعے اب تک 7,700 سے زائد برطانوی شہریوں کو برطانیہ بھیجوایا جا چکا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، وزیر خارجہ قریشی نے یہ بات منگل کو اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلی فون رابطے کے دوران انہیں بتائی۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سےبین الاقوامی پروزایں کے معطل ہونے کے باعث واپسی کے منتظر شہریوں کے معاملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق، پاکستان کے وزیر خارجہ نے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جاننس کے اسپتال سے فارغ ہونے پر برطانوی وزیر خارجہ کو مبارک دی اور وزیر اعظم جانسن کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انھوں نے کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے برطانیہ میں ہونے والے جانی نقصان پر اپنے برطانوی ہم منصب سے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے برطانوی ہم منصب کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے 23 پروازوں کے ذریعے 7700 برطانوی شہریوں کو برطانیہ پہنچایا۔

بیان کے مطابق، پاکستان کی طرف سے برطانوی شہریوں کو اپنے وطن واپس لانے کے لیے پاکستان کے تعاون پر وزیر خارجہ ڈمینک راب نے وزیر خارجہ قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں باقی رہ جانے والے برطانوی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازیں چلانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نےبرطانوی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان اس سلسلے میں برطانیہ کی ہر ممکن معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ جاپان اور تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے 267 پاکستانی شہریوں کو پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے پیر کو وطن واپس لایا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے پیر کو پارلیمان کی ایک قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیرونی ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے 14 اپریل سے خصوصی پروازیں شروع کی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جزوی لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعمیرات سمیت مختلف شعبے جزوی طور پر کھولنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات بدستور بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی ہے جس کے تحت اسکول کالجز اور عوامی مقامات بدستور 30 اپریل تک بند رہیں گے۔

اُنہوں نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان میں اسمگلنگ اور ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت آرڈیننس لا رہے ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ رمضان میں اجتماعی عبادات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے جید علما سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ "مجھے لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار اور روز کمانے والوں کی پریشانیوں کا اندازہ ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں بیروزگار ہو رہے ہیں۔ اس لیے کنسٹرکشن سمیت کچھ صنعتوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کرونا وائرس: سرکاری اور نجی اسکولوں میں خلیج واضح
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:00 0:00

اُن کے بقول تعمیرات کا شعبہ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے اسی لیے اسے کھولنے کا فیصلہ کیا جب کہ صوبے ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ صنعتوں کو کھول دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ وفاق کے بجائے اپنے فیصلے خود کرسکیں تاہم آج کے اجلاس میں شریک وزرائے اعلیٰ نے بھی ان اقدامات کی حمایت کی ہے۔

بیرون ملک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے اقدامات

وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس میں ان کے وزرا اور مشیر بھی موجود تھے۔ مشیر برائے سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف نے کہا کہ 21 مارچ کو ہم نے فضائی حدود بند کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ فضائی حدود اس لیے بند کی کہ آنے والے تمام مسافروں کے لیے اقدامات کر سکیں۔ چار اپریل کو کچھ پروازیں لانے کی اجازت دی اور اس کے ساتھ چھ ہوائی اڈے کھول دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 20 اپریل کے بعد چھ ائیرپورٹس کھلے رہیں گے اور 6000 سے 7000 پاکستانی واپس لائے جا سکیں گے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان (فائل فوٹو)
وزیر اعظم پاکستان عمران خان (فائل فوٹو)

معید یوسف نے کہا کہ "ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت 35000 کے قریب پاکستانی بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں۔ خلیجی ملکوں میں نوکریاں ختم ہونے کے بعد بہت سے لوگ واپس آنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ بعض جگہوں پر قیدی رہا ہوئے ہیں ہم انہیں لانا چاہتے ہیں لیکن ان سب کو مرحلہ وار واپس لایا جائے گا۔

معید یوسف نے کہا کہ طورخم اور چمن پر قرنطینہ کا انتظام کیا ہے۔ افغانستان میں موجود پانچ سے چھ ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ ایران کے ساتھ پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں ایران سے اشیائے خورونوش آتی تھیں۔ ان علاقوں میں ایران سے کھانے پینے کا سامان لانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

کون کون سی صنعتیں کھل رہی ہیں؟

وزیراعظم کی نیوز بریفنگ میں موجود وزیر برائے صنعت و تجارت حماد اظہر نے کہا کہ ہم مختلف صنعتیں مرحلہ وار کھول رہے ہیں۔ سب سے پہلے کنسٹرکشن انڈسٹری کو کھولا جارہا ہے۔ جس کے لیے سیمنٹ، کیمکلز، بجری کرش، گلاس مینوفیکچرنگ اور اسی طرح کی دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ ان کے لیے باقاعدہ ایس او پیز بنا دیے گئے ہیں اور انہی کے مطابق ان صنعتوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔

حماد اظہر نے کہا کہ آلات بنانے والے یونٹ اورشیشہ بنانے والی صنعتیں اور برآمدی صنعت کو کھولا جائے گا۔ کتابیں اور اسٹیشنری کی دکانیں کھولی جائیں گی۔ کیمیکلزپلانٹ، سوفٹ ویئر ڈویلپمنٹ پروگرامز، مائنز اور منرل سمیت لانڈریز بھی کھولی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹریشن، پلمبرز اور حجامت کی دکانیں کھلونے پر صوبوں کی مختلف آرا تھیں، لیکن انہیں بھی جلد کھولا جائے گا۔

'شکر ہے کرونا کے پھیلاؤ سے متعلق دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں'

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس اندازوں کے برخلاف اتنا نہیں پھیلا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اندازہ یہ تھا کہ اب تک 18 ہزار سے پاکستانی کرونا وائرس میں مبتلا ہو سکتے تھے جب کہ ہلاکتوں کا تخمینہ 191 افراد لگایا گیا تھا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب تک 96 ہلاکتیں اور لگ بھگ چھ ہزار افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

البتہ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اب بھی احتیاط سے کام لے کر لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کرونا وائرس کے خوالے سے مکمل ہم آہنگی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG