رسائی کے لنکس

logo-print

کھانے پینے کی چیزیں صارفین کی پہنچ سے دور


کراچی کا سبزی کا ایک اسٹال،

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال میں ملک بھر میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی شرح 5.84 سے بڑھ کے 11.63 فیصد تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور توانائی کی قیمتوں میں میں اضافے نے صارفین کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق اگست 2018 کے مقابلے میں اگست 2019 میں ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 5.84 سے بڑھ کر 11.63 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

شرح مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں جانے کے ساتھ ہی یہ اضافہ گذشتہ پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں آٹے کا 10کلوگرام کا تھیلا 39 روپے اور باسمتی چاول کی قیمت میں 6 روپے فی کلوگرام اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران گائے کا گوشت فی کلو گرام 45 روپے اور بکرے کا گوشت 84 روپے فی کلو گرام مہنگا ہوا, جب کہ زندہ برائلر مرغی کی قیمت میں 61 روپے اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں مونگ کی دال 57 روپے، ماش کی دال 34، مسور کی دال 12 روپے اور چنے کی دال 13 روپے فی کلو مہنگی ہوئی جب کہ ایک کلو گرام چینی کی قیمت میں 20 روپے تک اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ تازہ سبزیوں، پھلوں، دودھ، پکانے کے تیل، چینی اور دیگر روز مرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان ادارہ شماریات کے ڈاریکٹر مہنگائی عتیق الرحمن کہتے ہیں مہنگائی میں اس اضافے کی بڑی وجہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور اس کے لئے روپے کی قدر میں کمی نے بھی صارفین کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں زیادہ اضافہ کھانے پینے کی اشیاء میں دیکھا گیا ہے اور قیمتوں میں اضافے کو جانچنے کے لئے 12 گروپوں میں, کپڑوں سے لے کہ گھر کے کرایہ تک ہر سطح پر مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صارف حقوق تنظیم کے صدر محسن بھٹی کہتے ہیں کہ مہنگائی کے یہ اعداد و شمار عوام پر دو گنا اثر کر رہے ہیں اور روز مرہ کی اشیاء ضروریہ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا تناسب ساڑھے گیارہ فی صد بتایا جا رہا ہے لیکن اگر چینی، گھی، چائے وغیرہ کی قیمتوں کو دیکھیں تو ان میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

محسن بھٹی کے مطابق مہنگائی میں اس اضافے کی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے سالانہ افراط زر 6 فیصد مقرر کی گئی تھی لیکن مہنگائی کی یہ شرح فروری میں ہی تجاوز کر گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG