رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے پاکستان نے مؤثر اقدامات کیے: رپورٹ


(فائل فوٹو)

دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں اور جوہری مواد رکھنے والے ممالک پر ریسرچ کرنے والی امریکی تنظیم نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔

'نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو' (این ٹی آئی) نامی غیر سرکاری امریکی تنظیم نے بدھ کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے اقدامات میں مجموعی طور پر پیش رفت نہیں ہوئی۔

لیکن تنظیم نے پاکستان کو اُن ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جنہوں نے جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔

تنظیم کی جانب سے 2020 کے لیے جاری کیے گئے 'نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس' میں پاکستان کو گزشتہ سال کے مقابلے میں سات پوائنٹس زیادہ ملے ہیں جس کے بعد پاکستان عالمی درجہ بندی میں 47 پوائنٹس کے ساتھ 19 ویں نمبر پر ہے۔

انڈیکس میں بھارت 41 پوائنٹس کے ساتھ 20 ویں نمبر پر ہے۔

تنظیم نے رپورٹ میں 153 ممالک کو شامل کیا ہے جن میں ایٹمی قوت رکھنے والے ملکوں کے علاوہ وہ ملک بھی شامل ہیں جو جوہری مواد کو دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے جوہری مواد کے تحفظ کو موثر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے جن میں جوہری تنصیبات کا تحفظ اور سائبر سیکیورٹی کے نظام میں جدت بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 کے بعد پاکستان نے رواں سال جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے بہتر اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان کے ممتاز جوہری سائنس دان ثمر مبارک مند کا کہنا ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مسلسل اقدامات کرتا آ رہا ہے جسے عالمی سطح پر بھی اب سراہا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ پاکستان جوہری پروگرام اور تابکاری مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔

اُن کے بقول جوہری پروگرام کے تحفط کے لیے پاکستانی سائنس دانوں نے کئی ترقی یافتہ ممالک سے تربیت بھی حاصل کی جس کے بعد جوہری تنصیبات اور آلات کے تحفظ کا موثر نظام وضع کیا گیا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی تشویش
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:50 0:00

ادھر امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے بھی ایک ٹوئٹ میں پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا ہے.

جوہری امور کے ماہر ڈاکٹر اے ایچ نئیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا خوش آئند ہے۔

ان کے بقول 'این ٹی آئی' کی رپورٹ میں جوہری پروگرام کے تحفظ سے متعلق کاوشوں کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

اُن کے بقول ماضی میں امریکہ سمیت دیگر ممالک پاکستان کے جوہری پروگرام کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں.

ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے بقول اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے ان کے بقول 2004 کے بعد ایک دہائی تک پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا رہا جس کے پیش نظر پاکستان کہ جوہری پروگرام کے تحفظ سے متعلق سولات اٹھائے گئے۔

لیکن ان کے بقول پاکستان کے ٹھوس اور موثر اقدامات کی وجہ سے یہ خدشات بعد میں ختم ہو گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG