رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور کی صحافی 30 سال سے کم عمر دنیا کی 100 بااثر سکھ شخصیات میں شامل


اس ایوارڈ کے لیے ہر سال دنیا بھر سے 100 افراد کا منتخب کیا جاتا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی سکھ خاتون صحافی منمیت کور کو برطانیہ میں قائم سکھ برادری کے ادارے نے 30 سال سے کم عمر دنیا کی 100 بااثر سکھ شخصیات میں شامل کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم 'دی سکھ گروپ' نامی تنظیم گزشتہ 11 سال سے دنیا بھر میں سکھ مذہب و معاشرے کے لیے خدمات کے ساتھ ساتھ امن و محبت کا پرچار کرنے والوں کی پذیرائی کے لیے ایوارڈ دے رہی ہے۔

اس ایوارڈ کے لیے ہر سال دنیا بھر سے 100 افراد کا منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے علاوہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو بھی دیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ کھیل، ذرائع ابلاغ، موسیقی اور کاروبار میں اعلیٰ خدمات انجام دینے والوں کو بھی اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

پشاور کی منمیت کور عملی صحافت کے علاوہ سماجی کاموں میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ منمیت کور کا کہنا ہے کہ پشاور میں موجود سکھ کمیونٹی کے افراد اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیتے تھے کیونکہ ایک طرف پشتون روایات انہیں ایسا کرنے سے روکتی تھیں تو دوسری طرف انہیں ڈر تھا کہ کہیں اسکول میں ان کی بچیوں کو تعصب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

منمیت کور نے کہا کہ اس نے گھر گھر جاکر نہ صرف والدین کو اس بات پر قائل کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کس حد تک ضروری ہے بلکہ انہوں نے والدین کو اپنی مثال بھی پیش کی کہ وہ کس طرح سے تعلیم حاصل کرکے دنیا بھر میں سکھ مذہب اور پاکستان کا نام روشن کررہی ہیں۔

اس سے قبل بھی پاکستان سے دو افراد کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سردار رمیش سنگھ خالصہ جب کہ پولیو پروگرام میں خدمات انجام دینے والے ساگرجیت سنگھ شامل ہیں۔ منمیت کور یہ ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔

منمیت کور نے کہا کہ اس مرتبہ ایوارڈ کے لیے مقابلہ کافی سخت تھا کیونکہ اس میں بھارت، برطانیہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے سیاستدان، اداکار، موسیقار اور کھلاڑی شریک تھے۔ اتنے بڑے لوگوں میں ایواڈ جیتنا یقیناً قابل فخر مقام ہے۔

پشاور کی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی ٹی وی رپورٹر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:54 0:00

ان کا مزید کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ پر ہر چیز دکھائی نہیں جاتی اور نہ اسے لایا جاسکتا ہے کیونکہ نہ تو سیکھ برادری چاہتی ہے کہ ان کو اس طرح سے ذرائع ابلاغ پر پیش کیا جائے اور نہ ہی کچھ حلقے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مسائل کھل کر بیان کریں۔

ان کے بقول صحافت میں آنے سے میری حکومتی افراد سے جان پہچان بنی۔ جس کی وجہ سے کئی چیزوں میں آسانی ہوئی۔ تو میں نے یوٹیوب کا سہارا لیا اور سماجی طور پر لوگوں سے مل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ وزیر تعلیم سے مل سکھ برادری کے تعلیمی مسائل حل کرائے۔

منمیت کور نے کہا کہ کرونا کی وبا سے بیرون ملک جانے والی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ جب پروازیں بحال ہوں گی تو وہ یہ ایوارڈ لینے لندن جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ ہمارے لیے نوبیل پرائز کے برابر ہے کیونکہ اس ایوارڈ سے ہمیں اور زیادہ طاقت اور ہمت ملتی ہے کہ ہم آگے اپنے مستقبل میں اور اچھا کام کرسکیں۔

منمیت کور کے مطابق پاکستان میں اقلیتی برادری کو نہ صرف اپنے تمام حقوق حاصل ہیں بلکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آزادانہ جدوجہد بھی کرسکتی ہیں۔ یہ ایوارڈ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوارڈ لیتے وقت پاکستان کا پرچم لہرانا چاہتی ہوں تاکہ دنیا کو یہ بتا سکوں کہ ہم پاکستان میں آزاد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG