رسائی کے لنکس

آفریدی کا انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش نا ہونے کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ وہ پی سی بی سے لڑنا نہیں چاہتے اور ان کے بقول وہ کسی جونیئر کھلاڑی کی کپتانی میں بھی کھیلنے پر تیار ہیں۔ آفریدی نے کہا کہ اُنھیں سیاست نہیں آتی اور وہ عزت سے کرکٹ کھیلے ہیں اور عزت سے ہی ریٹائرمنٹ لی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے رواں ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی قائم کردہ انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

یہ اعلان شاہد آفریدی کے ہمراہ اُن کے وکیل سید علی ظفر نے پیر کو کراچی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک خط کے ذریعے وہ مطلع کر چکے ہیں کہ کمیٹی کے ارکان خود پی سی بی کے ملازمین ہیں اور اب تک شاہد آفریدی کے خلاف جو غیر قانونی کارروائی کی گئی ہے اس کے پیش نظر انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

شاہد آفریدی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر پی سی بی نے اُن کے مطالبات مانتے ہوئے سابق کپتان کا سینٹرل کانٹریکٹ اور انگلینڈ میں کائونٹی کرکٹ کے لیے جاری کردہ این او سی بحال کر دیا تو اُنھیں کمیٹی کے سامنے پیش ہونے میں کوئی اعتراض نہیں۔

”پی سی بی نے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ قانون کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ پاکستانی آئین کے تحت ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اُس کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے قبل اُس کا موقف سنا جائے۔“

پی سی بی کے مطابق شاہد آفریدی کا اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کا طریقہ کھلاڑیوں کے لیے نافذالعمل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ بورڈ کی تشکیل کردہ تین رکنی کمیٹی کے سامنے ان الزامات کی سماعت بدھ کو ہونا ہے۔

لیکن پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اْنھیں پی سی بی کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں اعلان کے ذریعے کپتانی سے ہٹایا گیا اور اس ضمن میں کوئی تحریری نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ چونکہ کپتانی سے ہٹائے جانے کی اطلاع اْنھیں ذرائع ابلاغ سے ملی تھی لہذا اْنھوں نے بھی یہی راستہ اپناتے ہوئے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان میڈیا میں کیا۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ وہ پی سی بی سے لڑنا نہیں چاہتے اور ان کے بقول وہ کسی جونیئر کھلاڑی کی کپتانی میں بھی کھیلنے پر تیار ہیں۔ آفریدی نے کہا کہ اُنھیں سیاست نہیں آتی اور وہ عزت سے کرکٹ کھیلے ہیں اور عزت سے ہی ریٹائرمنٹ لی ہے۔

آفریدی نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کرکٹ سے اپنی مشروط ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
آفریدی نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کرکٹ سے اپنی مشروط ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ وہ مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں تاہم ان کے بقول مستقبل کا تو پتا نہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے بورڈ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ’این او سی‘ کی منسوخی کی وجہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ ’این او سی‘ کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ”میں اپنا حق لینے آیا ہوں“۔

آفریدی کے مطابق پی سی بی کی جانب سے ’این او سی‘ روکنے کا جواز ہیمپشائر کی سمجھ میں بھی نہیں آیا جس کی جانب سے انھیں انگلش کاؤنٹی میں شرکت کرنا تھی۔

سابق کپتان نے کہا کہ وہ بات بڑھانا نہیں چاہتے اور اُنھوں نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ان کے بقول ان کے لیے ”تمام آپشن کھلے ہیں“۔

نیوز کانفرنس کے موقع پر آفریدی کے ہمراہ ان کے وکلاء اور کرکٹ شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی جو مسلسل ان کے حق میں نعرے بازی کرتی رہی۔

واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے بورڈ کی جانب سے مبینہ طور پر ناروا رویہ رکھے جانے کے خلاف گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کرکٹ سے اپنی مشروط ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

لاہور میں پی سی بی کے دفاتر
لاہور میں پی سی بی کے دفاتر

پی سی بی نے آفریدی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ان کے سینٹرل کانٹریکٹ کے ساتھ ساتھ انگلینڈ کی کاؤنٹی اور سری لنکا کی لیگ کرکٹ میں شرکت کے لیے انہیں دیے گئے ’این او سی‘ بھی منسوخ کردیے تھے اور انھیں قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں نوٹس جاری کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG