رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں چمڑے کی صنعت تنزلی کا شکار، کھالوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی


فائل فوٹو

پاکستان میں کھالوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی اور کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے کھالوں کے کاروبار اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کا مستقبل خطے میں پڑ گیا ہے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کھالوں کی پاکستان میں زیادہ مانگ نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 95 فی صد چمڑا برآمد کردیا جاتا ہے جو کہ کرونا وبا کی وجہ سے عائد سفری پابندیوں اور طلب نہ ہونے کی وجہ سے اس سال برآمد نہیں ہو سکا۔

چمڑا برآمد نہ ہونے سے نہ صرف بے روزگاری بڑھی ہے بلکہ اندرونِ ملک کھالوں کی قیمتیں بھی ریکارڈ حد تک گر گئی ہیں۔

پاکستان کا شمار چمڑے سے بھاری زرِ مبادلہ حاصل کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن کرونا کی وبا کی آمد سے قبل ہی گزشتہ چند برسوں سے یہ صنعت تنزلی کا شکار ہے۔

چیئرمین پاکستان ٹینر ایسوسی ایشن شیخ افضال حسین کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے پاکستان سے کھالوں کی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ عالمی منڈی میں بھی کھالوں کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہو گئی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ افضال نے بتایا کہ چمڑے کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکل بھی بہت زیادہ مہنگے ہو گئے ہیں جس سے مقامی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

شیخ افضال کے بقول پاکستانی چمڑا کوالٹی کے اعتبار سے اٹلی کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے لیکن نرخ کم ہونے اور دیگر وجوہات کی وجہ سے مقامی تاجر نقصان اٹھا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں انھیں 'ایئر فریٹ' دو ڈالر فی کلو کے حساب سے پڑتا تھا جو کہ اب 10 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین آغا صلاح الدین کے مطابق گزشتہ سال عید الاضحیٰ کے موقع پر پاکستان میں 81 لاکھ جانور ذبح کیے گئے تھے جن کی مالیت 242 ارب تھی اور ان کی کھالوں سے مقامی صنعت میں سوا پانچ ارب روپے کا کاروبار ہوا تھا۔

البتہ ان کے بقول اس سال تقریباً 60 لاکھ جانور قربان کیے گئے ہیں جن سے کھالوں کی مد میں مقامی تاجروں نے صرف پونے دو ارب روپے کمائے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آغا صلاح الدین نے بتایا کہ بھیڑ اور بکری کی کھالوں کی قیمتوں میں 20 سے 25 فی صد فرق پڑا ہے لیکں گائے کی کھال جس کا ریٹ گزشتہ سال 2000 سے 2500 روپے فی عدد تھا، وہ اس سال 500 روپے تک آ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا 60 فی صد چمڑا جوتے بنانے میں استعمال ہوتا ہے لیکن فٹ ویئر انڈسٹری بھی کرونا کی پابندیوں کے باعث زوال پذیر ہے جس کی وجہ سے کھالوں کی قمیت پر فرق پڑا ہے۔

ٹینرز اسیوسی ایشن کے موجودہ چیئرمین شیخ افضال کے مطابق کھال کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی ایک اور وجہ عید الاضحیٰ کا گرمیوں اور برسات کے موسم میں آنا ہے کیوں کہ گرمی اور برسات میں کھال جلدی خراب ہو جاتی ہے۔

ان کے بقول گرم موسم میں کھال کے جانور سے اترنے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر اس پر نمک لگا کر اسے محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ پاستان بیرونِ ممالک نہ صرف چمڑا ایکسپورٹ کرتا ہے بلکہ اس سے بنے ہوئے جوتے، گارمنٹس، جیکٹس، بیگز اور دیگر مصنوعات بھی برآمد کرتا ہے۔

پاکستان میں عید الاضحیٰ کے موقع پر مویشیوں کی تجارت عروج پر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں لائیو اسٹاک شعبے کا ملکی زراعت میں 61 فی صد جب کہ جی ڈی پی میں 11 فی صد حصہ ہے۔

پاکستان میں دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے مویشی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ ہر سال عید الاضحٰی کے موقع پر مویشیوں کی مانگ میں اضافے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

امان اللہ آفتاب کراچی میں چمڑے کے بڑے تاجر ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اب آہستہ آہستہ چمڑے کی مصنوعات کا استعمال کم کر رہے ہیں جس کا اثر اس صنعت پر پڑ رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے امان اللہ نے بتایا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے لوگوں کی معاشی حالت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی اور چمڑے کی مصنوعات کا شمار چوں کہ پرتعیش اشیا میں ہوتا ہے تو اس لیے بھی دنیا بھر میں اس صنعت کو دھجکا پہنچا ہے۔

امان اللہ آفتاب کے مطابق چمڑے کی مصنوعات کا زیادہ تر استعمال نسبتاً سرد ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پر کرونا کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ سے سیلز ویسے ہی بند تھیں اور اسی وجہ سے پاکستان سے چمڑا اور اس کی مصنوعات برآمد نہیں ہوسکیں۔

واضح رہے کہ پاکستان یورپ، چین، روس، ویت نام، انڈونشیا اور امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں کو چمڑا اور اس سے بنی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG