رسائی کے لنکس

logo-print

'بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرنے پر غور کر رہے ہیں'


وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری(فائل فوٹو)

پاکستان کی حکومت کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان بھارت کے لیے فضائی حدود دوبارہ معطل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جب کہ بھارت کی افغانستان تک تجارتی رسائی کے لیے ذمینی راستے کی سہولت واپس لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد کی گئی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش اور ذمینی راستہ دینے کی سہولت واپس لینے کے لیے قانونی امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بھارت کی جانب سے رواں ماہ پانچ اگست کو اس کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ پہلے سلامتی کونسل میں اٹھایا اور اب عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شروعات نریندر مودی نے کی اب اسے ختم ہم کریں گے۔

پاکستان کی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جمعے کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے کشمیر ڈے منایا جائے گا۔

وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم کے اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے نکات پر بھی مشاورت کی گئی۔

پاکستان نے رواں سال فروری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد اپنی مشرقی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ اس حملے میں 40 سے زائد اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کا ذمہ دار بھارت نے پاکستان کو ٹھہرایا تھا جس کے بعد دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے علاقوں میں فضائی کارروائی کے دعوے کیے تھے۔

واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ بھارت نے چند روز بعد فضائی حدود کھول دی تھیں۔ تاہم باکستان نے لگ بھگ پانچ ماہ بعد گزشتہ ماہ بھارت کے لیے فضائی حدود کو مکمل طور پر کھول دیا تھا۔

کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش سے رپورٹس کے مطابق بھارت سے مشرق وسطٰی اور مغربی ممالک کی جانب سفر کرنے والی پروازوں کو طویل روٹ اختیار کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے بھارت سمیت مختلف ممالک کی ایئر لائنز اضافی اخراجات برداشت کر رہی تھیں۔

پاکستان نے بھارت کے اقدامات پر سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے بھارت کے پاکستان میں ہائی کمشنر کو واپس بھیج دیا تھا۔ جب کہ بھارت کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے سمیت ٹرین اور بس سروس بھی معطل کر دی تھی۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر BlockAirRoutesForIndia# ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانی صارفین بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود مکمل طور پر بند کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

ایک صارف حزیفہ فاطمہ نے لکھا ہے کہ ایئر انڈیا کی پرواز جس میں مودی موجود ہیں وہ پاکستانی فضائی حدود سے گزر رہی ہے۔

سن آف پاکستان نامی صارف نے لکھا ہے کہ سب یہ مطالبہ کریں کے پاکستان فوری طور پر بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرے۔

لائمہ آفریدی نے ٹوئٹ کی کہ اس بار پاکستان کے سیاست دانوں کو متحد ہونا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG