رسائی کے لنکس

پاکستان: کل آبادی کا نصف ہونے کے باوجود خواتین افرادی قوت کا صرف 21 فی صد کیوں؟


فائل فوٹو

پاکستان میں موجوہ حکومت کے پہلے سال کے دوران جہاں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا وہیں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خواتین، ملک کی افرادی قوت کا محض 21 فی صد ہیں۔

ادارہ شماریات پاکستان کے سروے کے مطابق سال 19-2018 میں پاکستان میں مجموعی طور پر 15 کروڑ 35 لاکھ افراد ورکنگ ایج یعنی کام کرنے کی عمر رکھتے ہیں۔ البتہ ان میں سے افرادی قوت چھ کروڑ 87 لاکھ 50 ہزار کی ہے جن میں سے چھ کروڑ 40 لاکھ افراد بر سرِ روزگار جب کہ 47 لاکھ لوگ بے روزگار ہیں۔

یاد رہے کہ سال 18-2017 کے سروے کے مطابق ملک میں افراد قوت چھ کروڑ 50 لاکھ افراد پر مشتمل تھی جن میں سے 32 لاکھ کے قریب لوگ بے روزگار تھے۔

برسر روزگار لوگوں میں سے 67 فی صد سے زائد مرد جب کہ خواتین ورک فورس کا محض 21.5 فی صد ہیں۔

افرادی قوت کا 61 فی صد اب بھی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جب کہ 39 فی صد شہروں میں کام کر رہا ہے۔

سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں صرف 27.6 فی صد برسر روزگار افراد باقاعدہ ملازمت اختیار کیے ہوئے ہیں جب کہ 72 فی صد سے زائد افراد کو ملازمت تو میسر ہے لیکن ان کے لیے کوئی تحریری معاہدہ یا قواعد و ضوابط موجود نہیں جس کی وجہ سے ان کی ملازمت غیر رسمی ہے جب کہ ایسے 1.2 فی صد لوگوں کی بھی نشاندہی گئی ہے جنہیں ان کی قابلیت یا محنت کے مقابلے میں کم اجرت پر ملازمت کے مواقع میسر ہیں۔

سال 19-2018 میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.9 فی صد ریکارڈ کی گئی جو ایک سال قبل کے سروے سے 1.1 فی صد زیادہ ہے۔

شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح دیہی علاقوں سے زیادہ بتائی جاتی ہے جب کہ سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح خیبر پختونخوا میں 10.3 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

کیا ماحولیاتی تبدیلیاں لوگوں کا روزگار چھین سکتی ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:48 0:00

سروے کے نتائج کے مطابق ایک سال کے دوران خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں زیادہ اضافہ نوٹ کیا گیا۔

اسی طرح ملک میں اب بھی زراعت کے شعبے میں سب سے زیادہ ملازمتیں یعنی 39.2 فی صد موجود ہیں جب کہ صنعتوں میں 23 فی صد اور خدمات کے شعبے میں 37.8 فی صد افرادی قوت کام کر رہی ہے۔

سروے 19-2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اوسطاََ تنخواہ 21 ہزار 326 روپے ہے۔ لیکن اگر صرف خواتین کی بات کی جائے تو یہ محض 15 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

سروے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں جہاں تعمیرات، ماہی گیری، جنگلات، زراعت اور سماجی خدمات کے شعبے میں ملازمتیں بڑھی ہیں تو دوسری جانب اشیا سازی اور ہول سیل کے کام سے متعلق شعبوں میں ملازمتوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔

بے روزگاری کی شرح میں کرونا وبا کے دوران اضافہ

ماہرہن معیشت ان اعداد و شمار کو پرانا قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح، کرونا کے دوران معاشی سست روی کی وجہ سے اور بھی بڑھی ہے۔

ماہر معاشیات اور محقق عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق کرونا وبا کے دوران ملک میں ایک کروڑ کے قریب لوگ بے روزگار ہوئے جن میں سے بڑی تعداد صنعتوں اور خدمات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔

ان کے بقول ان میں سے اگرچہ 70 فی صد کے قریب کرونا کے بعد معاشی بحالی کے عمل میں دوبارہ روزگار پر آ چکے ہیں البتہ اس کے باوجود بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 19-2018 کے سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہی ہے۔ جب کہ پاکستان اکنامک سروے 20-2019 میں بھی مکمل لاک ڈاؤن سے محدود لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک کروڑ 85 لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

'ادارہ شماریات کا ڈیٹا مکمل قابل بھروسہ نہیں'

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ کا کہنا ہے کہ ایک جانب یہ حقیقت ہے کہ ملک میں بے روزگاری بے حد زیادہ ہے تو دوسری جانب انہوں نے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر شک کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار جمع کرنے کی میتھاڈالوجی اور اسے پراسس کرنے کا طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ان کے خیال میں روزگار سے متعلق اعداد و شمار میں بھی غلطیوں کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں انڈر ایمپلائمنٹ یعنی قابلیت سے کم میں نوکری کرنا اور اس کے ساتھ کم سے کم اجرت سے کم میں ملازمت کرنے کے بھی مسائل کو یہ بھی یہ مکمل احاطہ نہیں کرتا۔

'مواقع میں کمی سے خواتین کی شمولیت کم'

اس سوال پر کہ حالیہ مردم شماری میں آبادی کا 48 فی صد ہونے کے باوجود بھی خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت محض 21 فی صد کیوں ہے؟ ذوالفقار شاہ کا کہنا تھا کہ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں ثقافتی، معاشرتی اور سماجی وجوہات کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ روایتی طور پر ملک میں افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت اتنی ہی رہی ہے۔ بلکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان، افغانستان کے بعد اس فہرست میں سب سے نچلے نمبر پر ہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ مواقع کم ہونے کی وجہ سے خواتین جاب مارکیٹس میں کم آتی ہیں اور ایسی بھی خواتین موجود ہیں جو پروفیشنل تعلیم تو حاصل کرتی ہیں مگر جب عملی زندگی میں قدم رکھنے کا وقت آتا ہے تو وہ شادی کے بعد نوکری پر خاندان کو ترجیح دیتے ہوئے اسے خیرباد کہہ دیتی ہیں۔

ذوالفقار شاہ نے اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ ملک میں اس قسم کا ماحول بھی عام طور پر خواتین کو میسر نہیں کہ وہ آسانی سے ملازمت اختیار کرسکیں۔ جیسے کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں کی آبادی لگ بھگ دو کروڑ کے قریب ہے لیکن وہاں ایسی ٹرانسپورٹ میسر نہیں جہاں خواتین تو خواتین مرد بھی آسانی سے سفر کر سکیں اور ملازمت جاری رکھ سکیں۔

ان کے بقول تو ایسے میں ایک خاتون جو ملازمت کرنا چاہتی بھی ہے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ پہنچ پانے کے باعث ملازمت نہیں کرپاتی۔ یہ سارے عوامل مل کر خواتین کی افرادی قوت میں کم شراکت کی ذمہ دار ہیں۔

ادھر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ملک میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ موجودہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کی اپنی رپورٹ اور حقائق بتا رہے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG