رسائی کے لنکس

افغان امن کے لیے امریکہ سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں: احسن اقبال


بیان کے مطابق سینیٹر لنڈسے گراہم نے وزیرِ داخلہ احسن اقبال سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مسلسل روابط ضروری ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں اُنھوں نے منگل کو ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم سے کیپٹل ہل میں ملاقات کی۔

واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے سے جاری ایک بیان کے مطابق ملاقات میں وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے کام کرنا چاہتا ہے کیوں کہ اُن کے بقول افغانستان میں مسلسل عدم استحکام سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ملنے والی کامیابیوں کو خطرہ ہے۔

بیان کے مطابق سینیٹر لنڈسے گراہم نے وزیرِ داخلہ احسن اقبال سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مسلسل روابط ضروری ہیں۔

سینیٹر گراہم امریکی سینیٹ کی چار اہم کمیٹیوں بشمول آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں۔

وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور سینیٹر گراہم کے درمیان ہونے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتِ حال پر بھی بات چیت کی گئی۔

احسن اقبال نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو ملنے والی کامیابیوں کے بارے میں بھی امریکی سینیٹر کو آگاہ کیا۔

وزارتِ داخلہ کے علاوہ احسن اقبال کے پاس ترقی و منصوبہ بندی کی وزارت کا بھی قلم دان ہے۔

ملاقات کے دوران اُنھوں نے امریکی سینیٹر کو بتایا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری کے بعد اب پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں ملک ہے۔

دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ کے نکتۂ نظر مختلف ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر اب بھی افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں ہیں جن کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کو فیصلہ کن کارروائی کرنا ہو گی۔

پاکستان اپنی سرزمین پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے واشنگٹن میں ایک سیمینار سے خطاب میں کہا کہ سلامتی سے متعلق خطرات صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ عالمی چیلنج ہیں اور اس کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حکام پڑوسی ملک افغانستان میں داعش کی بڑھتی کارروائیاں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG