رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ کو بھی پاکستان سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے'


پاکستان فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں کی بڑی تعداد امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں جمع ہے۔

پاکستان فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں کی بڑی تعداد امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں جمع ہے۔ جہاں ہفتے کو پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی ایک ایوارڈ تقریب منعقد ہوگی۔

ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی شہریوں نے پاکستانی ستاروں کا پُرجوش استقبال کیا ہے۔ وہیں شوبز ستاروں کی کہکشاں مختلف تقاریب میں بھی شریک ہورہی ہے۔

جاوید شیخ، بشریٰ انصاری، عروہ حسین سمیت دیگر فنکاروں کے اعزاز میں ہیوسٹن کے میئر سلویسٹر ٹرنر اور امریکہ پاکستان وومنز کونسل کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا موضوع 'پاکستان میں خواتین کا معاشی استحکام اور ان کے لیے ہر شعبے میں برابری کے مواقع' تھا۔

تقریب میں عروہ حسین نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں عروہ حسین نے بھی شرکت کی۔

’ہم ایوارڈز‘ کی تقریب میں شرکت کے لیے ہیوسٹن آئے معروف پاکستانی اداکار جاوید شیخ نے پاکستان میں شوبز انڈسٹری سے متعلق کہا کہ جب وہ نوجوان تھے اور اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے تھے تو اُنہیں گھر والوں کے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور آج اُن کی بیٹی بھی اداکارہ ہے۔

فلم اسٹار زیبا بختیار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں حالات بہت بدلے ہیں لیکن اب بھی راستہ طویل ہے۔ ان کے بقول، وہ خواتین کو آگے لانے کے لیے کوئٹہ میں کام کر رہی ہیں تاکہ وہاں کی خواتین کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

تقریب کے دوران شوبز انڈسٹری میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی گئی۔
تقریب کے دوران شوبز انڈسٹری میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی گئی۔

فلم اسٹار علی رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ دہائیوں میں حالات میں بہت بہتری آئی ہے۔ باہر کے ملکوں میں پاکستان کو جیسے دیکھا جاتا ہے اصل میں وہ ایسا ملک نہیں ہے۔

پاکستانی سیاست دان خوش بخت شجاعت کی صاحبزادی اور تقریب کی میزبان ملکہ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے تو امریکہ کو بھی پاکستان سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے جس میں سب سے پہلے ایک جڑے ہوئے خاندان کا تصور ہے۔

ہم ایوارڈز کی تقریب پانچ اکتوبر کو ہیوسٹن میں ہوگی۔
ہم ایوارڈز کی تقریب پانچ اکتوبر کو ہیوسٹن میں ہوگی۔

'ہم ٹیلی وژن' نیٹ ورک کی سربراہ سلطانہ صدیقی نے تقریب کے دوران کہا کہ اُنہوں نے تنہا تین بچوں کی پرورش کی ہے جس نے اُنہیں مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین کو برابری کے حقوق دینے اور کام کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کا تصور دیا۔

اُن کے بقول، انہوں نے اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے چینل کی بنیاد رکھی۔ جہاں 30 فی صد خواتین کام کرتی ہیں اور وہ مردوں کے برابر تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG