رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات مکمل


طورخم بارڈر عارضی طور پر کھولنے کے بعد 20 ہزار کے لگ بھگ افغان اپنے وطن واپس چلے گئے۔

افغانستان میں کرونا وائرس کے نتیجے میں پھنسنے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں سرحدی قصبے لنڈی کوتل میں اتوار کے روز اعلی انتظامی اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کا ایک اجلاس ہوا جس میں طورخم کے راستے ان کی واپسی پر مشاورت کی گئی۔

لنڈی کوتل تحصیل کمپاؤنڈ میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز قبائلی اضلاع ڈاکٹر نیاز آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں سیکیورٹی حکام اور تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے سرابراہوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور اس سلسلے میں سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بارڈر پر سکریننگ ٹیسٹ، ہیلتھ منیجمنٹ ٹیم بنانے اور لنڈی کوتل اسپتال اور کالج میں قرنطینہ کے انتظامات کو مزید بہتر کیا جائے گا۔

ڈاکٹر نیک داد آفریدی کے مطابق اجلاس میں قرنطینہ کے مراکز میں مناسب خوراک، بجلی، انٹرنیٹ اور پیرامیڈکس اور نرسنگ سٹاف کی کمی پوری کرنے پر غور کیا گیا اور لنڈی کوتل کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال میں موجود انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز قبائلی اضلاع نے کہا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے حکومت کی طرف سے جاری احکامات اور ہدایات کی روشنی میں تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں اور کسی قسم کی تشویش کی بات نہیں، البتہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

اسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران نے کہا کہ لنڈی کوتل میں چار کوارنٹین سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر قاسم آفریدی نے کہا کہ طورخم کی سرحدی گزرگار کے ذریعے ہر روز ایک ہزار افراد کو آنے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ تمام حفاظتی انتظامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

پچھلے ہفتے پاکستان نے افغان حکومت کے درخواست پر طورخم اور چمن کی گذرگاہوں کو پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی واپسی کے لئے چار دن کھلا رکھا تھا۔ اس دوران طورخم سے 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کی واپسی ہوئی۔

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG