رسائی کے لنکس

طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں مسافروں کا کرونا چیک اپ کیا جاتا ہے


ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں مسافروں کا کرونا وائرس کا چیک اپ کیا جاتا ہے۔

دنيا بھر ميں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کے بتدريچ پھيلاو کے پيش نظر پاکستان کی حکومت نے افغانستان سے متصل طورخم بارڈر کے راستے آنے والے افغان باشندوں کے طبعی معائنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہيں۔ انتظاميہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ذريعے کرونا وائرس کا پھيلاؤ روکنے ميں مدد ملے گی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ضلع خيبر کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزير نے بتايا کہ پاک افغان طورخم بارڈر پرسينکڑوں کی تعداد ميں گاڑيوں کی آمد و رفت کے ساتھ ساتھ روزانہ تقریباً آٹھ سے دس ہزار افراد پيدل سرحد پار کرتے ہیں۔

ان کے مطابق جب سے يہ وبا دنيا ميں پھيلی ہے، پاکستان بھر ميں دوسرے انٹری پوائنٹس کے ساتھ ساتھ طورخم بارڈر پر بھی احتياطی تدابير اختيار کی گئی ہيں۔ اور سرحد پر اضافی اسٹاف کو تعنات کيا گيا ہے جس ميں خواتين سٹاف سمیت ڈاکٹرز اور ہيلتھ ٹيکنيشنسز بھی شامل ہيں جو 24 گھنٹے وہاں موجود رہتے ہيں۔

ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر حفاظتی انتظامات سے متعلق صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر حفاظتی انتظامات سے متعلق صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔

محمود اسلم وزير نے مزيد بتايا کہ طورخم بارڈر پر اس سے قبل سيکیورٹی اہل کار صرف ويزا سے متعلق دستاويزات ديکھتے تھے تاہم اب بارڈر پر اس کے علاو پوليو اور کرونا وائرس سے متعلق بھی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

پاکستان ميں محکمہ صحت کے مطابق گلگت بلتستان ميں کرونا وائرس کا ايک اور مريض سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ اس وقت دنیا کے ایک سو زیادہ ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہيں۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایک عالمی وبا قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع خيبر کے مطابق طورخم بارڈر پر زيرو پوائنٹ پر قائم کردہ اسپتال ميں ان تمام مسافروں کو، جنھوں نے حاليہ دنوں ميں ايران، چین يا کرونا وائرس سے شديد متاثرہ ممالک کا سفر کيا ہو، خصوصی طور پر مکمل طبی معائنے کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں کے طبی معائنے کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں کے طبی معائنے کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

محمود اسلم کے مطابق ہيلتھ ٹيکنيشنز تھرمل گنز کی مدد سے مسافروں کا ٹمپريچر چيک کرتے ہيں اور اگر کسی کا ٹمپريچرمقررہ سطح سے زيادہ ہو تو پھر اس کی الگ سے تشخیص کرتے ہيں۔

اس وقت پاکستان ميں کرونا وائرس سے متعلقہ کيسز صوبہ سندھ اور بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہيں جب کہ صوبہ خيبر پختونخوا اور پنجاب سے کوئی بھی کيس سامنے نہیں آیا۔

محمود اسلم وزير کے مطابق اب تک ان کے عملے نے تين لاکھ سے زائد افراد کو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے دوران چيک کيا ہے ليکن کسی مسافر میں کرونا وائرس کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے ميں 1200 پوليو ورکرز تعينات ہيں جو گھروں ميں جا کر کرونا وائرس سے متعلق علامات کی جانچ پڑتال کرتی ہيں۔ ان کی مدد سے 16 ايسے کيسز سامنے آئے ہيں جنھوں نے حاليہ دنوں ميں اٹلی، ايران اور چین کا سفر کيا تھا۔ ان افراد کو دیگر تمام مسافروں سے الگ رکھا گیا ہے تاکہ کرونا وائرس کی منتقلی کے امکان کو پاک افغان دوستی سرحد پر ہی روک لیا جائے۔

طورخم بارڈر کے راستے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، جنہیں طبی معائنے کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔
طورخم بارڈر کے راستے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، جنہیں طبی معائنے کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

صوبہ خيبر پختونخوا کے وزيراعلیٰ محمود خان کی زيرصدارت کرونا وائرس سے متعلق خصوصی اجلاس ميں یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ طورخم بارڈر کی بندش کا معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھایا جائے۔

محمود اسلم وزير کے مطابق ابھی تک انھيں حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی ہدايات نہيں ملی ہيں تاہم وہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG