رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے کیسے نکلے؟


پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اہداف کے حصول پر مبنی اپنی عملدرآمد رپورٹ عالمی ادارے کو بھجوا دی ہے۔ اس رپورٹ پر 21 فروری سے پیرس میں شروع ہونے والے تنظیم کے پلینری اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔

گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف جوائنٹ گروپ کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ فروری 2021 تک ایکشن پلان پر عملدرآمد مکمل کرے۔

وزارت خزانہ حکام کے مطابق پاکستان نے 27 میں سے 21 اہداف پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع کروائی ہے جب کہ 6 اہداف میں پیش رفت کا طریقہ کار وضع کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق نیشنل سیونگ میں بائیو میٹرک کی تصدیق کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جب کہ جائیداد کی خرید و فروخت کے ذریعے مشکوک لین دین کو روکنے کے لئے پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے پاکستان پوسٹ کے کھاتہ داروں کی تصدیق کا بھی طریقہ کار وضع کیا ہے۔

پاکستان کی پارلیمان نے گزشتہ سال ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر لانے کے لیے دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا ایک منظر، فائل فوٹو
ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا ایک منظر، فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کہ چکے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے بیشتر نکا ت پر عملدرآمد کیا ہے اور اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا جائے۔

پاکستان کے اقدامات کو سراہا جانا چاہئے!

وزیر اعلی پنجاب کے مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ کافی عرصے سے جاری بات چیت کے نتیجے میں پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی ترسیل کی روک تھام کے لیے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کو سراہا جائے گا۔

سلمان شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی اور بینکنک نظام میں بہت اصلاحات لائی گئی ہیں اور اب وقت ہے کہ اسے سراہا جائے۔

معاشی امور کے ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے دو مقاصد ہیں ایک تو ملک سے دہشت گردی کے دروازے بند کروانا ہے اور دوسرا معاشی طور پر محتاج رکھنا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا کے گرے لسٹ سے نکلنے کے دعوے اپنی جگہ مگر یہاں سے جانے والی چیزیں دنیا کو صحیح پیغام نہیں دیتی ہیں۔

امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا نے، بقول ان کے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو منفی طور پر لیا ہے اور ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں اس پر بہتر رویہ نہیں ملے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اقدامات کے د عو ے کئے جاتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس سے تاثر ملتا ہے، کہ ملک میں دہشت گردوں کا وجود برقرار ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط ایک جگہ مگر پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لئے دہشت گردی سے پاک ہونا ہے.

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس۔ فائل فوٹو
ایف اے ٹی ایف کا اجلاس۔ فائل فوٹو

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 21 سے 26 فروری تک تنظیم کے ہیڈکوارٹر پیرس میں ہو گا جس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا ہے۔

الزامات ختم کردیں تو پابندی کا سیاسی جواز نہیں رہے گا!

دہشت گرد تنظیموں اور عالمی دہشت گرد افراد کے حوالے سے سلمان شاہ کہتے ہیں کہ حکومت اس حوالے سے اقدامات کرتے ہوئے پابندیوں والے افراد کو عدالتی نظام میں لے آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کے حوالے سے اب عدالتوں نے فیصلے لینے ہیں اور حکومت عدالتی نظام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتی۔

سلمان شاہ نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف کے فورم پر سیاسی دباؤ کا آنا غیر فطری نہیں، بھارت پاکستان کا دیرینہ حریف ہے لہذا وہ اسے استعمال کر رہا ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی نگرانی کی فہرست میں ہونا سیاسی معاملہ بھی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے تمام تر جواز اور بھرپور مواقع ہم نے خود فراہم کئے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ الزامات ختم کردیں تو کسی کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

بھارت کا الزام رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کو آئندہ اجلاس تک زیر نگرانی یعنی 'گرے لسٹ' میں رکھنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔ اس اجلاس میں عالمی تنظیم نے پاکستان کو فروری 2021 تک تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا تھا۔

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں 27 نکاتی ایکشن پلان تجویز کیا گیا تھا۔

پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ تنظیم کے تجویز کردہ نکات کی روشنی میں ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کر لے گا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات میں سے صرف 21 پر عمل کیا تھا اور باقی رہ جانے والی 6 سفارشات پوری کرنے کے لیے اسے مزید چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG