رسائی کے لنکس

logo-print

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا پہلا مرحلہ، اپوزیشن کامیاب رہی یا ناکام؟


فائل فوٹو

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کے پہلے مرحلے کا اختتام لاہور میں مینارِ پاکستان پر ہونے والے جلسے کی صورت میں ہوا ہے۔ پی ڈی ایم 13 دسمبر کے جلسے کو کامیاب جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اسے ناکام قرار دے رہی ہے۔

پاکستان کے سیاسی حلقوں میں آج کل اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد 'پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ' (پی ڈی ایم) کے جلسوں اور سرگرمیوں کا شور ہے۔ لاہور جلسے کے بعد اب پی ڈی ایم کے مستقبل کے بارے میں بحث ہو رہی ہے۔

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کے پہلے مرحلے کا اختتام لاہور میں مینارِ پاکستان پر ہونے والے جلسے کی صورت میں ہوا ہے۔ پی ڈی ایم 13 دسمبر کے جلسے کو کامیاب جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اسے ناکام قرار دے رہی ہے۔

وائس آف امریکہ نے اس تمام صورتِ حال اور مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے جائزے کے لیے ملک کے نامور سیاسی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی ہے۔

لاہور جلسہ کامیاب رہا یا ناکام؟

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ اگرچہ سیاسی صورتِ حال میں کوئی بھونچال تو نہیں لا سکا لیکن یہ ناکام بھی نہیں تھا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کی رائے میں پی ڈی ایم کا اتوار کو لاہور میں ہونے والا جلسہ نہ تو بہت بڑا تھا اور نہ ہی اسے ناکام کہا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول یہ ایک بڑا جلسہ تھا جس میں لوگ گھنٹوں بیٹھے رہے، آتے بھی رہے، جاتے بھی رہے۔ اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جلسے کا کوئی پیغام نہیں گیا۔

"لیکن ایک ایسا جلسہ جس کے بارے میں کہا جائے کہ قیامت برپا ہو گئی ہے۔ جیسا 1986 میں بینظیر بھٹو کا جلسہ تھا یا 2011 میں جو عمران خان کا جلسہ تھا، پی ڈی ایم کا یہ جلسہ ایسا نہیں تھا۔ اسے سب سے بڑا جلسہ نہیں کہا جا سکتا۔"

مجیب الرحمٰن شامی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں اِس طرح کی صورتِ حال کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ ان کے بقول حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا ہدف صرف حکومت نہیں بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹارگٹ کیے ہوئے ہیں۔ اِس لحاظ سے اپوزیشن نے اپنے لیے خود مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور ایک مشکل ہدف متعین کر لیا ہے۔

شامی صاحب کی رائے میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں حالات پر اثر انداز تو ہو سکتی ہیں لیکن زیر و زبر نہیں کر سکیں گی۔

سینئر صحافی اور کالم نویس اشعر رحمان کہتے ہیں کہ یہ کیسے متعین کیا جائے کہ جلسہ کامیاب ہے یا ناکام؟ اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت پر ایک دباؤ ڈالنا تھا۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ سیاسی جماعتیں اُس میں کامیاب ہوئیں یا نہیں۔

'ملک میں آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:36 0:00

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہ اشعر رحمان نے کہا کہ لاہور میں جب بھی آپ اِس طرح کی کوئی چیز کریں گے تو حکومت میں ارتعاش تو پیدا ہو گا۔ جلسے سے پہلے ہی حکومت کو کئی اقدام کرنے پڑے۔

"شیخ رشید کو وزیرِ داخلہ بنا دیا گیا۔ 15، 20 ترجمان لگا دیے۔ پھر عمران خان صاحب بھی بیان دیتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔ وہ اِن لوگوں کو تو نہیں کہہ رہے، وہ تو اُن لوگوں کو کہہ رہے ہیں جو این آر او دلوایا کرتے ہیں۔ اِن سب چیزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جلسہ ناکام تھا۔"

سینئر صحافی، کالم نویس اور تجزیہ کار حامد میر سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک ایک غیر معمولی حالات میں شروع ہوئی جب کرونا وائرس کی وبا بھی چل رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جب پی ڈی ایم نے جلسے شروع کیے تو حکومت دباؤ میں آ گئی۔ حکومت نے بھی جوابی جلسے شروع کر دیے۔ لیکن جب حکومت نے دیکھا کہ ان کے جلسے اتنے بڑے نہیں ہو رہے جن کا اثر زیادہ نہیں ہے تو انہوں نے اپنے جلسے بند کر دیے۔

حامد میر کی رائے میں پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ دسمبر کی سخت سردی میں ہوا ہے جس میں پی ڈی ایم کی حکمتِ عملی میں کچھ خامیاں بھی نظر آئیں۔

"انہوں نے پورا دن ضائع کر دیا سردار ایاز صادق کے گھر پر اور شام کو وہ آئے۔ بہرحال گراؤنڈ تو انہوں نے مینارِ پاکستان کا بھر دیا، لیکن وہ اتنا بڑا اثر پیدا نہیں کر سکے۔ پاکستان کی سیاست میں جلسہ بڑا ہو یا چھوٹا، اس سے اتنا فرق نہیں پڑتا۔ لیکن حکومت پر دباؤ ڈال دیا ہے۔"

'اپوزیشن لاقانونیت کو فروغ دے رہی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:50 0:00

کیا حکومت دباؤ میں ہے؟

حامد میر سمجھتے ہیں کہ 'پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ' کے جلسوں کے بعد حکومت کہہ تو یہ رہی ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ لیکن دباؤ تو ہے۔ ورنہ شیخ رشید صاحب کو ہنگامی طور پر وزیرِ داخلہ نہ بنایا جاتا۔

ان کے بقول پی ڈی ایم اپنے مستقبل کی باتیں کسی سے نہیں کرتی اور نہ بتاتی ہے۔ تاکہ حکومت کو ان کے مدِ مقابل حکمتِ عملی بنانے میں آسانی نہ ہو۔

حامد میر کہتے ہیں کہ ابھی تک یہ نظر آ رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی ایک کامیابی رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اتحاد میں شامل تمام لوگوں کو کہا گیا ہے کہ جو لوگ پچھلے دروازے (بیک ڈور چینل) سے رابطہ کرتے ہیں، اُن سے رابطے نہیں رکھنے۔

"کل بلاول نے کھلے عام کہہ دیا کہ مجھے آپ فون نہ کریں۔ میری اطلاعات کے مطابق زرداری صاحب کو بھی انہوں نے فون کیا۔ انہوں نے بھی سننے سے انکار کر دیا۔ اِسی طرح مولانا فضل الرحمٰن اور اختر مینگل صاحب سے بھی کہا گیا کہ آپ سے میٹنگ کرنی ہے تو اُنہوں نے بھی ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔"

"یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ تمام لوگ بیک ڈور چینل سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب یہ اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو عمران خان اس پوزیشن میں نہیں ہوں گے کہ کسی کے ذریعے جس طرح پچھلے سال انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو واپس بھجوا دیا تھا، بیک ڈور چینل سے بات چیت کر کے، اس مرتبہ یہ ذرا مشکل ہے۔"

سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق پی ڈی ایم کے جلسوں کا جو سلسلہ ہے، اِس سے انہوں نے اپنے کارکنوں کو متحرک کیا ہے اور اُن میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے اِس بات کو یکسر نظر انداز کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور موسم بھی سخت ہے۔

"اگر دیکھیں تو بہت بڑا طوفان تو نہیں اٹھایا جا سکا لیکن انہوں نے اپنی صفوں کو منظم کیا ہے۔"

سیاست میں تلخیاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی ماحول میں تلخی مزید بڑھے گی۔ ان کے بقول نواز شریف کی تلخی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے کہ جن لوگوں پر وہ تنقید کر رہے ہیں، انہی کے ساتھ مل کر تو اُنہوں نے سیاست شروع کی تھی۔

"جو تلخی معنی رکھتی ہے، وہ اختر مینگل کی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کو جب فوج نے ذوالفقار بھٹو کے ذریعے ختم کرایا تھا تو اس کے بعد سے وہ آج کے دن تک کبھی لاہور نہیں آئے۔"

"عطا اللہ مینگل کہتے ہیں کہ انہوں نے لاہور کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے لیکن جب ہمارے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو آپ کے دل میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔"

سینئر صحافی اور کالم نویس اشعر رحمان کی رائے میں پی ڈی ایم تحریک کے پہلے مرحلے میں ایک کامیابی یہ رہی کہ مقتدر قوتوں سے جو شکایتیں ہیں، وہ ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ان کے بقول جب تک ان کے خدشات اور شکایتیں سنی نہیں جائیں گی تو پھر قومی دھارا کیسے بنے گا؟

اشعر رحمان نے کہا کہ عمران خان صاحب اور دیگر کو دیکھنا ہو گا کہ کون کون سی چیزیں ہیں اور کیا شکایتیں ہیں؟ ان کو کیسے حل کرنا ہے؟ جو وفاق کی سیاست کرتے ہیں وہ بھی جان چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو کیسے تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ سب چیزیں سوچنے والی ہیں۔

مجیب الرحمان شامی کی رائے میں اگر تسلسل سے یہ چیزیں جاری رہتی ہیں تو کاروبارِ حکومت میں خلل پڑے گا۔ اس خلل کی وجہ سے حالات متاثر ہو سکتے ہیں۔ یعنی معیشت کو مضبوط کرنے اور معاشیات کو درست کرنے کے لیے جو سکون اور پُر امن ماحول چاہیے، اگر وہ نہیں ملتا تو حکومت کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔

"لیکن حکومت کو آپ دھکا دے کر گرا دیں گے یا وہ استعفٰی دے دی گی یا عمران خان صاحب پیچھے ہٹ جائیں گے۔ ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ اپوزیشن اگر ایک حقیقت ہے تو حکومت بھی حقیقت ہے۔ عمران خان کا بھی ووٹ بینک موجود ہے۔ اِس لیے دونوں فریق ایک دوسرے کو دھکا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔"

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے اور مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے جو دونوں کے لیے اور نظام کے لیے بہتر ہو۔ ایک فریق دوسرے کو ختم نہیں کر سکے گا۔

یاد رہے کہ 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے اپنے حکومت مخالف جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو صوبۂ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے کیا تھا۔ 18 اکتوبر کو کراچی، 25 اکتوبر کو کوئٹہ، پھر پشاور، 30 نومبر کو ملتان میں جلسے ہوئے اور پھر 13 دسمبر کو لاہور کے مینارِ پاکستان پر جلسہ ہوا ہے۔

پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ لاہور جلسے پر ختم ہوا ہے اور اتحاد نے دوسرے مرحلے میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG