رسائی کے لنکس

logo-print

بلاول کی ایم کیو ایم کو پیش کش، وفاقی حکومت بھی متحرک


فائل فوٹو

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو وفاق سے علیحدگی کی صورت میں سندھ حکومت میں وزارتوں کی پیش کش کے بعد ملکی سیاست میں نئی ہلچل مچ گئی ہے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے وفاقی حکومت سے تخفظات کے اظہار اور پیپلز پارٹی کی پیش کش پر غور کرنے کے بیانات کے بعد حکومتی جماعت تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کی قیادت میں سیاسی رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کرے گی۔ ملاقات میں ایم کیو ایم کے تحفظات، مطالبات اور سندھ کی سیاسی صورتِ حال پر بات ہو گی۔

خیال رہے کہ پیر کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو پیش کش کی تھی کہ اگر ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے تو انہیں سندھ کی صوبائی حکومت میں وزارتیں دے دی جائیں گی۔ خیال رہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہے۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر نے بلاول بھٹو کی پیش کش کا جواب میں کہا تھا کہ ہماری پارٹی اس پیش کش پر غور کر سکتی ہے۔ ایم کیو کیو کے ترجمان نے بھی کہا کہ وفاقی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں تاہم حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کسی کی خواہش پر نہیں کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینئر حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کی سندھ حکومت میں شمولیت کی مشروط پیش کش نہ تو قابل غور ہے اور نہ ہی قابل عمل ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو قومی اسمبلی میں 183 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کو قومی اسمبلی میں 183 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کراچی کو سنجیدہ نہیں لے رہی اور نہ ہی حکومت نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 162 ارب روپے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ان میں سے اب تک محض ایک ارب روپے ہی جاری ہوسکے ہیں۔ ان کے بقول ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ اپنے اتحاد کو آگے برھانا چاہتی ہے۔ لیکن موجودہ صورتِ حال میں معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کی جانب سے کراچی کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی ہو۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے رواں ماہ وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وفاق ان کی بات نہیں سن رہا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو ایم کیو ایم کو لالچ دے کر مفادات کی سیاست کر رہے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں سیاسی پوزیشن مضبوط نہیں ہے اور اب وہ سہارے تلاش کر رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد وزارتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اور یہ اتحاد کراچی اور پورے ملک کی بہتری کے لیے چلتا رہے گا۔

تجزیہ کار مظہر برلاس کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں سیاسی خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے۔ لہذٰا وفاق سے تحفظات کے باوجود بلاول کی پیش کش قبول کرنے کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دیتے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم وزیر اعظم کی جانب سے کراچی کے لیے اعلان کردہ فنڈز کا اجراء چاہتی ہے اور اسی بنا پر بلاول بھٹو کی پیش کش پر ایسا موقف اپنایا کہ وفاق پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی (فائل فوٹو)
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن

قومی اسمبلی کے 342 اراکین پر مشتمل ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

ایوان زیریں میں پارٹی پوزیشن کے مطابق حکومت اور اس کے اتحادیوں کے ارکان کی کل تعداد 183 ہے۔ جن میں تحریک انصاف کے پاس 156، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے 3، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، مسلم لیگ (ق) کے 5، بی این پی مینگل کے 4، عوامی مسلم لیگ کا ایک، جمہوری وطن پارٹی ایک اور ایم کیو ایم کے 7 ارکان شامل ہیں۔

پارٹی پوزیشن کے لحاظ سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی کل تعداد 159ہے جن میں مسلم لیگ ن کے 84، پیپلزپارٹی کے 55، عوامی نیشنل پارٹی کا ایک، متحدہ مجلس عمل کے 16 اور ارکان شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق محض ایم کیو ایم کے سات اراکین کا ساتھ چھوڑنے سے قومی اسمبلی میں حکومت کی عددی اکثریت ختم نہیں ہو گی۔ البتہ اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے مزید پانچ ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

تحریک انصاف کی ایک اور اتحادی جماعت بی این پی مینگل کے سربراہ بھی وفاقی حکومت سے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اور اپوزیشن کو امید ہے کہ ایم کیو ایم کو سندھ میں وزارتوں کا لالچ دے کر وہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

ایم کیو ایم ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کا حصہ رہی ہے اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے اتحاد سے علیحدہ اور دوبار اتحاد کا حصہ بنتی رہی ہے۔ ایم کیو ایم ماضی میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے دور حکومت میں ایک اہم اتحادی کے طور پر وفاقی حکومت کا حصہ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG