رسائی کے لنکس

logo-print

ورلڈ کپ اسکواڈ کے پاکستانی کھلاڑی کوئی کمال دکھا سکیں گے؟


ورلڈ کپ 2019ء کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے 15 رکنی حتمی اسکواڈ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس اسکواڈ میں شامل کچھ کھلاڑیوں کی اب تک کی پرفارمنس کیسی رہی ہے اور کس کو کیا اعزاز حاصل ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈالیں:

فخر زمان

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اوپنر فخر زمان کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ وہ اس وقت آئی سی سی کی ٹی20 رینکنگ میں نویں اور ون ڈے رینکنگ میں 11 ویں نمبر پر ہیں۔

وہ اپنا نیچرل گیم کھیلتے ہیں اور صورتِ حال کیسی بھی ہو تیزی کے ساتھ رنز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اسی کوشش میں وہ بعض اوقات اپنی وکٹ بھی گنوا دیتے ہیں۔

فخر ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ڈبل سینچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ جولائی 2018ء میں زمبابوے کے خلاف بولاوائیو میں 210 رنز کی اننگز کھیل کر سر انجام دیا تھا۔

انہوں نے اب تک 36 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں جن میں اُن کے رنز کی تعداد 1642 ہے۔ ان میں چار سینچریاں اور 10 نصف سینچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں 40 کی اوسط سے 200 رنز بنائے جس میں 138 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل ہے۔

امام الحق

امام الحق نے ورلڈ کپ اسکواڈ میں اوپنر کی حیثیت سے اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ وہ اب تک 28 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں اُن کے رنز کی تعداد 1387 ہے۔ اُن کے رنز بنانے کی اوسط 60 سے زائد ہے لیکن اسٹرائیک ریٹ 81 سے کچھ زیادہ ہے جس میں بہتری کی گنجائش ہے۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز میں وہ جیسن روئے اور بابر اعظم کے بعد تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین رہے۔ انہوں نے چار میچوں میں 117 کی اوسط سے 234 رنز بنائے۔

امام الحق نے 151 رنز کی یادگار اننگز بھی کھیلی جو کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کا کسی غیر ایشیائی یا افریقی ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ اسکور ہے جب کہ یہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی اُن کا زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور ہے۔

محمد حفیظ

محمد حفیظ پاکستانی ٹیم کے سینئر ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ اُن کے پاس 210 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کا وسیع تجربہ ہے اور یہی تجربہ ٹیم میں اُن کی شمولیت کی وجہ بنا ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

وہ بہترین اسپن بالر بھی ہیں لیکن ایک سے زائد بار بالنگ ایکشن رپورٹ ہونے کے باعث اُن کی وکٹ لینے کی صلاحیت پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ تاہم وہ بیٹسمین کو اسکور کرنے سے باز رکھنے میں اب بھی مہارت رکھتے ہیں اور یوں اُن کی ٹیم میں موجودگی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ اسپن بالنگ کے شعبے میں بھی فائدے مند ثابت ہوگی۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے دوران اُنہیں دو میچوں میں موقع دیا گیا۔ ایک میچ میں انہوں نے 59 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ دوسرے میچ میں وہ بغیر کھاتہ کھولے پویلین لوٹ گئے۔

سرفراز احمد

کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی ٹیم 2017ء میں چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کر چکی ہے۔ اب ورلڈ کپ 2019ء میں بھی ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

پچھلے چند برسوں میں اُن کی اپنی پرفارمنس بہت زیادہ متاثر کن نہیں رہی۔ لیکن انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں اُنہوں نے پانچ میچوں کی چار اننگز میں مجموعی طور پر 186 رنز بنائے جب کہ دو اننگز میں وہ ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔ یوں اُن کا اوسط 93 اور اسٹرائیک ریٹ 116 سے زائد رہا۔

وہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ سرفراز مجموعی طور پر 106 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں انہوں نے 2128 رنز بنائے ہیں۔ اُن کا زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 105 رنز ہے۔

شعیب ملک

شعیب ملک ٹیم کے سب سے سینئر کھلاڑی ہیں۔ وہ 20 سالہ کیریئر کے دوران اب تک 284 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 7500 سے زائد رنز بنائے ہیں۔

یہ شعیب کا دوسرا ورلڈ کپ ہے۔ اس سے پہلے وہ 2007ء کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ ایونٹ کے تین میچوں میں انہوں نے 30 اعشاریہ 66 کی اوسط سے 92 رنز بنائے تھے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں اُنہیں دو میچوں میں موقع دیا گیا تھا لیکن وہ بہت اچھی پرفارمنس نہ دکھا سکے اور صرف 45 رنز ہی بنائے۔

آصف علی

جارحانہ بیٹنگ کے حوالے سے شہرت رکھنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین آصف علی بآسانی گیند کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ ورلڈ کپ کے ابتدائی اسکواڈ میں شامل نہیں تھے۔ لیکن اُنہیں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 17 رکنی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اُن کی بیٹنگ کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے سلیکٹرز نے عابد علی کو ڈراپ کر کے انہیں ورلڈ کپ کے حتمی اسکواڈ میں جگہ دے دی۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ آصف علی نے فائر پاور ثابت کی ہے۔ وہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی نے ابھی بہت زیادہ میچز نہیں کھیلے۔ 16 میچوں میں اُن کے رنز کی تعداد 342 ہے۔ یوں اُن کا اوسط 31 رنز اور اسٹرائیک ریٹ 131 ہے جب کہ بہترین اسکور 51 رنز ہے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں انہوں نے 4 اننگز کھیل کر 142 رنز بنائے۔ یوں اُن کا بیٹنگ اوسط 35 اعشاریہ 5 رہا۔

بابر اعظم

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے ٹاپ آرڈر بیٹسمین بابر اعظم آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں نمبر ون اور ایک روزہ بین الاقوامی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں۔

بابر اعظم کا شمار موجودہ ٹیم کے قابلِ اعتماد بلے بازوں میں ہوتا ہے جس کا ثبوت انہوں نے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی دیا ہے۔ وہ 55 اعشاریہ 40 کی اوسط سے 277 رنز بنا کر مشترکہ طور پر جیسن روئے کے ساتھ سیریز کے ٹاپ اسکورر رہے۔

ان کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور 115 رنز تھا۔ اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم رہا جس کی وجہ سے بعض سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی جانب سے اُنہیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مجموعی طور پر 64 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 2739 رنز بنا رکھے ہیں جن میں 9 سینچریاں اور 12 نصف سینچریاں شامل ہیں۔ اُن کا زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 125 ناٹ آؤٹ ہے۔

حارث سہیل

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے حارث سہیل پاکستانی ٹیم کی جانب سے اب تک 34 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں جن میں اُن کے رنز کی تعداد 1320 ہے۔

اُن کا اوسط 47 سے زائد ہے جو قدرے بہتر ہے لیکن اسٹرائیک 83 سے کچھ زیادہ ہے جو بہت زیادہ متاثر کن نہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں اُنہیں تین میچوں میں موقع دیا گیا لیکن وہ صرف 69 رنز ہی بنا سکے۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ہمارے دونوں اوپنرز فخر زمان اور امام الحق اچھی فارم میں ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو حارث سہیل بھی ایک آپشن ہو سکتے ہیں۔

بالنگ

بالنگ کے شعبے میں پاکستانی ٹیم کا زیادہ انحصار محمد عامر اور وہاب ریاض پر ہو گا کیونکہ دونوں بالرز انگلینڈ میں کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

دونوں ابتدائی اسکواڈ میں شامل نہیں تھے لیکن انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بالرز کی خراب پرفارمنس کے باعث جنید خان اور فہیم اشرف کی جگہ اُنہیں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وہاب ریاض 79 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 102 وکٹیں لے چکے ہیں۔ انہوں نے 2015ء کے ورلڈ کپ کے 12 میچوں میں 24 وکٹیں لی تھیں۔

محمد عامر 51 میچوں میں 60 وکٹیں لے چکے ہیں جب کہ 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی میں اُن کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 5 ہے۔ حالیہ دنوں میں اُن کی وکٹیں لینے کی صلاحیت میں خاصی کمی آئی ہے۔ لیکن سلیکٹرز کو امید ہے کہ محمد عامر کا انگلینڈ میں کھیلنے کا تجربہ ورلڈ کپ مہم میں ضرور کام آئے گا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین انگلینڈ کے خلاف سیریز میں متاثر کن بالنگ نہ کر سکے لیکن وہ کسی بھی وقت اپنی اچھی پرفارمنس سے ٹیم کو فتح سے ہم کنار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسپن بولنگ میں پاکستان کے سب سے مؤثر بالر شاداب خان ہوں گے۔ بیماری کی وجہ سے وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ٹیم کو جوائن کر لی ہے۔ شاداب خان کا ساتھ دینے کے لیے دوسرے اسپن بالر عماد وسیم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG