رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی پولیس افسر کی میت دینے میں تاخیر پر افغان حکام پر تنقید


پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزرا نے مقتول پولیس افسر طاہر خان داوڑ کی میت دینے میں تاخیر پر افغان حکام پر کڑی تنقید کی ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ’’13 نومبر کی شام طاہر داوڑ کے قتل کی خبر ملتے ہی وزارت خارجہ اور کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر افغان حکام سے خبر کی تصدیق اور میت کو پاکستان واپسی کے لیے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستانی سفیر نے بھی افغان حکومت سے کہا تھا کہ میت جلد از جلد حوالے کر دی جائے۔ اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو گزشتہ روز دو بار اور آج پھر دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور میت حوالے کرنے میں تاخیر پر شدید احتجاج کیا گیا۔ تحریری اور زبانی پیغامات کے نتیجے میں آج ایک سرکاری وفد أفغانستان گیا اور میت کو واپس لے آیا‘‘۔

دفتر خارجہ نے بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ ’’افغان حکام ان حالات کا پتا چلانے میں تعاون کریں گے کہ کیسے ایک پاکستانی پولیس افسر افغانستان میں مردہ پایا گیا‘‘۔

دوسری جانب، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پشاور میں پریس کانفرنس میں افغان حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پولیس افسر کی میت پر سیاست اور پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی‘‘۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ’’جلال آباد میں پاکستانی سفارت کاروں کو میت نہ دینا افسوناک ہے۔ طورخم میں بھی ڈھائی گھنٹے تک انتظار کرنے کے باوجود لاش کو حوالے کرنے میں دشواریاں پیدا کی گئیں۔ جمعے کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا اور افغان حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر سفارت کاروں کے ذریعے بات کریں گے‘‘۔ شوکت یوسفزئی نے بھی افغان حکومت کے رویے کو ’’افسوناک‘‘ قرار دیا۔

طورخم پہنچنے پر افغانستان کے وفد میں شامل قبائلی رہنماؤں نے میت کو شہریار آفریدی اور شوکت یوسفزئی کے حوالے کرنے سے انکار کیا تھا۔ بعد میں میت شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور پختون تحفظ تحریک کے رہنما محسن داوڑ کے سربراہی میں وفد کے حوالے کی گئی۔

محسن داوڑ نے ’وائس آف امریکا‘ سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان سے شہریار آفریدی اور سیکورٹی حکام نے زبردستی لاش لی ہے۔ محسن داوڑ کے ساتھ طورخم جانے والے نوجوانوں نے اس موقع پر حکومت اور سیکورٹی حکام کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے لگوائے۔

افواج پاکستان نے بھی ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اُن کی ہلاکت سے پاکستان بہادر پولیس آفسر سے محروم ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ طاہر داوڑ کو اغوا کے بعد افغانستان منتقل کرنا اور اُس کے بعد افغان انتظامیہ کے رویے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اُن کے قتل میں استعمال کیے گئے ذرائع دہشت گرد تنظمیوں کے وسائل سے زیادہ ہیں‘‘۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان حکام کی جانب سے قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔

انھوں نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی باڑ اور دوطرفہ باڈر سکیورٹی کے معاملات میں تعاون کریں، تاکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی نے ایس پی طاہر داوڑ کے اغوا اور قتل کے خلاف ہفتے کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مظاہروں کی کال دی ہے۔ پارٹی رہنما امیر حیدر ہوتی کے مطابق، ’’طاہر داوڑ کو قتل کرکے پختون قوم اور قیادت کو کچھ اور ہی پیغام دیا جا رہا ہے۔ کسی کی جان و مال محفوظ نہیں اور حکومتیں تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG