رسائی کے لنکس

logo-print

’لارنس آف عربیہ‘ کے اداکار پیٹر اوٹول کا انتقال


یہ فلم سینما کی تاریخ کی عظیم اور موٴثر ترین فلم شمار ہوتی ہے۔ مورس جار کی جاندار موسیقی اور فریڈی ینگ کی جانب سے سپر پیناوژن 70 کی عکس بندی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا

برطانوی اداکار، پیٹر اوٹول جس نے سنہ 1962 میں بننے والے فلم ’لارنس آف عربیہ‘ میں مرکزی اداکاری کرکے راتوں رات شہرت حاصل کی، اور جنھیں آٹھ بار اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا، 81 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

او ٹول سے قربت رکھنے والے ایک شخص نے بتایا ہے کہ اداکار طویل علالت کے بعد ہفتے کو لندن کے ایک اسپتال میں فوت ہوئے۔

ڈیوڈ لین کی تاریخی فلم ’لارنس آف عربیہ‘ میں مثالی اداکاری پر اُنھیں پہلی بار آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا، جب کہ 2006ء میں فلم ’وینس‘ میں اداکاری کرنے پر آخری بار اِسی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ اور اِس طرح، اُنھوں نے آسکر کے لیے سب سے زیادہ نامزدگیوں کا ریکارڈ حاصل کیا، جب کہ اُنھیں یہ ایوارڈ نہیں ملا۔ حالانکہ، اُنھوں نے2003ء میں آسکر کا اعزازی ایوارڈ قبول کیا۔

آسکر کے لیے اُن کی ایک اور نامزدگی، فلم ’بیکٹ‘ میں ساتھی برطانوی اداکار، رچرڈ برٹن کے ساتھ ہوئی۔ دونوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران وہ زیادت تر شراب کے نشے میں دھت رہے۔

’لارنس آف عربیہ‘ برطانوی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس کی زندگی پر بنائی گئی ایک معروف برطانوی فلم ہے۔

اِس فلم کے لیے ہدایات ڈیوڈ لین نے دیں جبکہ سام اسپیگل نے برطانوی ادارے ’ہورائزن پکچرز‘ کے ذریعے اِسے پیش کیا۔ 1962ء میں پیش کی جانے والی اِس فلم میں پیٹر او ٹول نے مرکزی کردار ادا کیا۔

یہ فلم سینما کی تاریخ کی عظیم اور موٴثر ترین فلم شمار ہوتی ہے۔ مورس جار کی جاندار موسیقی اور فریڈی ینگ کی جانب سے سپر پیناوژن 70 کی عکس بندی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔

فلم پہلی جنگ عظیم کے دوران عرب علاقوں میں ’لارنس‘ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں عقبہ اور دمشق پر حملوں اور عرب قومی شوریٰ میں لارنس کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔

فلم 35 ویں اکیڈمی ایوارڈز میں 10 اعزازات کے لیے نامزد ہوئی جس میں سے 7 جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ جن میں بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین عکس بندی، بہترین صوتی اثرات، بہترین اداکار اور بہترین معاون اداکار کے اعزازات بھی شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کو دونوں مرکزی کردار یعنی پیٹر او ٹول بہترین اداکار اور عمر شریف بہترین معاون اداکار کے آسکر اعزاز نہ جیت پائے۔

سنہ 1991میں امریکی ’لائبریری آف کانگریس‘ نے ’لارنس آف عربیہ‘ کو ’ثقافتی، تاریخی اور جمالیاتی‘ طور پر مثالی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
XS
SM
MD
LG