رسائی کے لنکس

logo-print

'طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ 22 جون کو پارلیمان کے سامنے لائی جائے گی'


ہوابازی کے وفاقی وزیر، غلام سرور خان

پاکستان میں وزیر ہوابازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پی کے 8303 طیارہ حادثہ سے متعلق عبوری رپورٹ 22 جون کو پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے رکھ دی جائے گی۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں سرور خان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے میں97 مسافر ہلاک ہوئے، جبکہ دو معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی منظوری سے تحقیقاتی بورڈ منظور ہوا، جس کی سربراہی ایئرفورس کے سینئر افسر کر رہے ہیں۔ بورڈ اپنی مرضی سے مزید کسی آفیسر کو بھی شامل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ایئربس کمپنی کی 11 رکنی ٹیم بھی حادثہ کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

غلام سرور خان نے بتایا کہ گھروں پر جہاز گرنے سے 12 سے 15 گھر اور متعدد گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس حادثے کا شکار ہونے والے 51 افراد کے جسد خاکی کی شناخت ڈی این اے کے بعد مکمل کرکے میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ڈی این اے جلد مکمل کرنے کےلئے پنجاب اور این ڈی ایم اے سے بھی کچھ ماہرین کراچی بجھوائے ہیں۔ اس وقت ہمارا فوکس اس بات پر ہے کہ حادثہ کیوں، کیسے ہوا اور ذمہ دار کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 جون کو عبوری رپورٹ پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ یہ بالکل شفاف رپورٹ ہوگی۔ اس پر کوئی تبصرہ نہیں ہونا چاہیئے۔ نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہوگی اور نہ کسی کو ریلیف ملے گا۔ وزیر اعظم اور میرا یہی وعدہ ہے کہ کم سے کم وقت میں رپورٹ سامنے آئے، ہلاک ہونے والے پائلٹ کے خاندان کو یقین دلاتا ہوں، بالکل فیئر، فری، ٹرانسپیرنٹ انکوائری ہوگی۔ تحقیقاتی بورڈ پر اعتماد کیا جائے اور رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔

سرور خان نے کہا کہ جہاز کے پارٹس کے حوالے سے ہر چیز کا کاغذی ثبوت ہو گا۔ اگر کوئی تکنیکی خرابی تھی تو اسے دور کرنے کے بعد کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی ہوگا۔ اہم سوال ہے کہ جہاز جب لینڈ کر گیا تو پھر دوبارہ اٹھایا کیوں گیا۔ اگر جہاز نے لینڈنگ کی تو کسی کی اجازت سے کی۔ جیاز کی لینڈنگ اور دوبارہ اٹھانے کی ریکارڈنگ موجود ہو گی، اگر لینڈنگ گیئر نہیں کام کر رہا تھا تو پائلٹ کریش لینڈنگ کے لئے ریکویسٹ کرتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ جو انکوائری کر رہے ہیں ان کی رائے اہم ہو گی اور اسی پر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد اندرون ملک پروازوں کی آپریشن بند نہیں ہوا اور نہ ہو گا اس جزوی آپریشن کی بحالی کی اجازت این سی او سی نے دی تھی۔ بیرون ممالک سے آنے والی پروازوں پر صوبوں کے تحفظات زیادہ ہیں۔ 245 کی ایک فلائٹ سے 110 مسافر کرونا پازیٹو نکلے۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے کچھ وقت پہلے شہری آبادی پر گر کر تباہ ہوئی جس سانحہ میں 97 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دو مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG