رسائی کے لنکس

logo-print

'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ' سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی مقامی بینکوں کے ساتھ لین دین میں سہولت اور آسانی کے لیے 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام' کا افتتاح کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بینک کی شاخ، سفارت خانے یا قونصل خانے میں جائے بغیر اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے اور آن لائن ذرائع سے رقوم کی ترسیل بھی کر سکیں گے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مطابق 'ڈیجیٹل بینکنگ اکاؤنٹ' بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا دوسرے کمرشل بینکوں کے اشتراک سے ایک بڑا اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس سروس' بیرونِ ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو رقوم کی ترسیل، بلوں کی ادائیگی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی جدید سہولتیں فراہم کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی زیادہ محبِ وطن ہیں۔ کیوں کہ انہیں باہر جا کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا ملک کتنا اہم ہے۔

روشن ڈیجیٹل بینکنگ کیا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آن لائن بینکنگ تک رسائی اور بینک اکاؤنٹ کھلوانے کا جو طریقۂ کار بنایا ہے، اسے 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس' کا نام دیا گیا ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کی تجویز کردہ روشن ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس سروس کے ذریعے کوئی بھی پاکستانی، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مقیم ہو، گھر بیٹھے پاکستانی بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کرانے کے لیے آن لائن دستاویزات جمع کرانے کی سہولت بھی فراہم کی ہے، جب کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر ہی فعال کر دیے جائیں گے۔

اس نئے طریقۂ کار کے ذریعے صارف کو بینک کی شاخ، سفارت خانے یا قونصل خانے جانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی ویب سائٹ پر ایک لنک کے ذریعے تمام مقامی بینکوں کے 'اکاؤنٹ اوپننگ فارمز' مہیا کیے ہیں۔ ان فارمز کو پُر کرنے کے ساتھ آن لائن دستاویزات اور تصاویر اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔

فارم بھرنے اور متعلقہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے 48 گھنٹے بعد بینک اکاؤنٹ فعال کر دیا جائے گا۔

بینک کی جانب سے اکاؤنٹ کی تصدیق کے بعد بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے بینک اکاؤنٹ کو بنا کسی روک ٹوک کے استعمال کر سکیں گے۔

بینک اکاؤنٹ پاکستانی روپے یا کسی بھی غیر ملکی کرنسی یا پھر بیک وقت دونوں کرنسیوں میں بھی کھولے جا سکتے ہیں۔ دونوں کرنسیوں کا اکاؤنٹ کھولنے کی صورت میں کرنسی 'ریئل ٹائم ریٹ' کے ساتھ تبدیل کی جائے گی۔

ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی شرائط اور طریقۂ کار

اسٹیٹ بینک نے 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس پروگرام' کی تصدیق کی شرائط اور ضابطۂ کار بھی واضح کیا ہے۔

بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں مستقل غیر مقیم پاکستانی، عارضی طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور مشترکہ اکاؤنٹ ہولڈرز (بیرون ملک مقیم کوئی شخص اپنے کسی عزیز کے ساتھ مل کر اکاؤنٹ کھولے جو پاکستان میں مقیم ہو) شامل ہیں۔

مستقل طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے درج ذیل دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔

  • اکاونٹ ہولڈر کے غیر مقیم پاکستانی ہونے کی تصدیق کے لیے مؤثر پاسپورٹ، ویزا، رہائشی پرمٹ یا دیگر مصدقہ دستاویزات وغیرہ۔
  • شناختی کارڈ یا 'نائیکوپ' کی کاپی
  • بینک کا اکاؤنٹ نمبر
  • رہائشی اسٹیٹس تبدیل ہونے کی صورت میں بینک کو مطلع کرنے کا تصدیق نامہ

عارضی طور پر ملک سے باہر رہائش پذیر پاکستانیوں کو ملک میں نہ ہونے کا قابلِ قبول ثبوت فراہم کرنا ہو گا۔

فراہم کردہ معلومات کی متعلقہ بینک 'نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی' (نادرا) کے ذریعے تصدیق کرے گا جو کہ یہ عمل بائیو میٹرک تصدیق کے برابر ہو گا۔

تاہم متبادل تصدیق کا یہ عمل صارف کے بیرونِ ملک رہنے تک قابلِ عمل ہو گا اور اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے وطن واپسی پر بائیو میٹرک تصدیق کرانا لازمی ہو گا۔

مشترکہ اکاؤنٹ کی صورت میں پاکستان میں مقیم شہری کی بائیو میٹرک تصدیق کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 'اینٹی منی لانڈرنگ' اور 'کاؤنٹر فائنانسنگ آف ٹیررازم' کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے تحت پاکستان میں تمام بینک اکاؤنٹس کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے رکھی ہے۔ ایسے لاکھوں اکاؤنٹس معطل بھی کیے ہیں جن کی بائیو میٹرک تصدیق نہیں کرائی گئی۔

'ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے سرمایہ کاری میں آسانی ہو گی'

'اوورسیز انویسٹر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری' کے سیکرٹری جنرل عبد العلیم کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاری میں آسانی ہو گی اور اعتماد بڑھے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل بینکنگ سے رقوم کی ترسیل آسان ہو جائے گی۔ جو بغیر کسی مشکل کے بیرونِ ملک مقیم شخص کے پاکستان میں موجود خاندان تک پہنچے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان ترسیلات پر وِدہولڈنگ یا کسی اور قسم کا ٹیکس لاگو نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے اب بیرون ملک مقیم صارف اپنی ترسیلات اور بینکنگ امور آن لائن انجام دے سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG