رسائی کے لنکس

logo-print

بصرہ میں حکومت مخالف رہنماؤں کے قتل کے خلاف پرتشدد مظاہرے


مظاہرین نے پارلیمنٹ کے مقامی دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے آگ لگانے والے گولے بھی پھینکے۔

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں حکومت مخالف سماجی رہنماؤں کی ہلاکتوں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کے مقامی دفتر کو نذر آتش کر دیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سیکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

مظاہرین پارلیمنٹ کے مقامی دفتر کے باہر صوبائی گورنر کی معطلی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

یہ احتجاج رواں ہفتے حکومت مخالف دو سماجی کارکن کی ہلاکت اور دیگر افراد پر قاتلانہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے، جس کے بعد سیکیورٹی اہل کاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔

سماجی کارکن ریہام یعقوب عزام کو تین دن قبل اس وقت ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں تین دیگر خواتین کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں۔

موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر رائفل سے فائرنگ کی جس سے 29 سالہ ریہام یعقوب عزام ہلاک جب کہ دیگر تین خواتین زخمی ہو گئیں تھیں۔

حکومت مخالف کسی سماجی رہنما پر مسلح قاتلانہ حملے کا یہ رواں ہفتے کے دوران تیسرا ایسا واقعہ تھا۔ قبل ازیں ایک اور سماجی کارکن کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جب کہ چار دیگر افراد کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ ہلاک کی جانے والے خاتون سماجی رہنما نے کئی احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کی قیادت بھی کی تھی۔

تشدد کی لہر اس وقت شروع ہوئی جب حکومت کے ناقد سماجی رہنما تحسین اسامہ کو ہلاک کیا گیا تھا۔ تحسین اسامہ کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے کئی شاہراہوں کو بند کر دیا، جب کہ گورنر ہاؤس اور پولیس پر پیٹرول بم پھینکنے کے ساتھ ساتھ پتھراؤ بھی کیا تھا۔

تین دن تک جاری رہنے والے احتجاج میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی۔

وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے بصرہ کے پولیس اور نیشنل سیکیورٹی چیف کو معطل کرتے ہوئے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG