رسائی کے لنکس

logo-print

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر حملہ، ویڈیو فوٹیج سے ملزمان کی شناخت


نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اتوار کو کچھ نقاب پوش افراد ڈنڈے لے کر ہجوم کی شکل میں داخل ہوئے جنہوں نے یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی اور طلبہ اور اساتذہ پر تشدد کیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں طلبہ پر تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت شروع کر دی ہے۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نقاب پوش افراد کے جامعہ کی حدود میں داخلے اور طلبہ پر تشدد کے واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق دہلی پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا ہے جس میں ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس افسر رویندر آریا کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہونے والے پر تشدد واقعے نے پولیس کو یہ کیس شروع کرنے پر مجبور کیا ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کیا ہوا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

پولیس کی جانب سے اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اتوار کو کچھ نقاب پوش افراد ڈنڈے لے کر ہجوم کی شکل میں داخل ہوئے تھے۔ ملزمان نے یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی اور طلبہ اور اساتذہ پر تشدد کیا۔

اس واقعے میں کم از کم 30 طلبہ زخمی ہوئے جنہیں طبّی امداد کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس لایا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر طلبہ کو گہرے زخم آئے ہیں۔

جے این یو کے طلبہ اور بعض فیکلٹی ممبران نے الزام عائد کیا ہے کہ طلبہ پر تشدد کے واقعے میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ یونین اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پرشاد ملوث ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کی طلبہ تنظیم نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

طلبہ نے ہجوم کی کچھ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں جس میں کئی نقاب پوش افراد جامعہ کے رہائشی ہال میں داخل ہو رہے ہیں۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ انجمن کی سربراہ ایشی گھوش بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ پیر کو انہوں نے واقعے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی گھنٹوں قبل نامعلوم افراد کی موجودگی سے متعلق پولیس کو آگاہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

مقامی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتوار کو دن میں تقریباً ڈھائی بجے کے وقت انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ کچھ نامعلوم افراد کیمپس میں داخل ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے کچھ ارکان پر امن مظاہرہ کرنے لگے لیکن کچھ ہی دیر بعد یہاں نقاب پوش افراد نے حملہ کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا گیا۔

طلبہ پر تشدد کے واقعے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے دہلی پولیس اور حکمراں جماعت پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

ماہر قانون اور دہلی پولیس کے وکیل راہول مہرا نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ جے این یو میں ہونے والے حملے کو روکنے کے لیے کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ غنڈوں کی جے این یو کیمپس میں داخل ہونے، پرتشدد کارروائیوں سے معصوم طلبہ کو زخمی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر پھر چلے جانے کی ویڈیوز دیکھ کر ان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔

طلبہ پر حملے کے بعد بھارت میں جاری مظاہروں کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے۔

جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ پر اتوار کو ہونے والے تشدد کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ممبئی، کولکتہ، حیدر آباد کے ساتھ کرناٹک اور مغربی بنگال میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ ماہ سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ متنازع قانون کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کا مرکز اسی یونیورسٹی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جے این یو کے طلبہ مظاہروں میں فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی نظمیں بھی پڑھتے دکھائی دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG