رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی آئی انضباطی کمیٹی کی اپنے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی


رکن صوبائی اسمبلی، ڈاکٹر عمران شاہ

کراچی میں شہری کو تھپڑ مارنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کو ان کی جماعت نے پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور 20 غریبوں کو مفت علاج کرنے کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی انضباطی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عمران شاہ نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔

حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسپلنری کمیٹی نے رکن صوبائی اسمبلی کو پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جرمانے کی رقم معروف خیراتی ادارے ایدھی فاونڈیشن کو جمع کرائی جائے گی۔

اس کے علاوہ، ڈاکٹر عمران شاہ ایسے 20 آرتھوپیڈک مریضوں کا علاج بھی کرانے کے پابند ہوں گے جو علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔

ریٹائرڈ جج مسز رانا زکی شمسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی نے فیصلے میں رکن صوبائی اسمبلی کے شہری کے ساتھ رویے کو ''ناقابل برداشت اور شرمناک'' کہا ہے۔ کمیٹی نے ایم پی اے کو خبردار کیا ہے کہ جرمانہ ادا نہ کرنے، ڈسپلنری ایکشن کمیٹی کے احکامات نہ ماننے اور دوبارہ ایسے رویے کی شکایت موصول ہونے کی صورت میں انہیں پارٹی سے نکالا بھی جاسکتا ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عمران علی شاہ نے 14 اگست کو سڑک پر گاڑی اوورٹیک کرنے پر کراچی میں ایک شہری دآئود چوہان کو سڑک پر تھپڑ مارے تھے۔۔ جبکہ اس دوران وہ پولیس اور گارڈز کے ہمراہ موجود تھے۔ سر عام تھپڑ مارنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے پر نومنتخب رکن اسمبلی اور ان کی جماعت کو میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پی ٹی آئی قیادت نے اس پر عمران علی شاہ کی پارٹی رکنیت معطل کرکے معاملہ جماعت کی تین رکنی انضباطی کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

عمران علی شاہ نے خود بھی شہری داود چوہان کے گھر جاکر معافی مانگی تھی۔ اور اپنے عمل پر شرمندگی پر اظہار کیا تھا۔

عمران علی شاہ آرتھوپیڈک سرجن ہیں جبکہ ان کے والد اور بھائی بھی اسی شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کے والد ڈاکٹر محمد علی شاہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی اور وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG